عیسائی رہنما کی مسلمانوں پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انگلینڈ اور ویلز کے کیتھولک چرچ کے سربراہ نے مسلم رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات نہیں کر رہے۔ کیتھولک چرچ کے سربراہ کارڈینل کومک مرفی او کونر نے جی ایم ٹی وی کے سنڈے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کینٹربری کے سابق آرچ بشپ لارڈ کیری کے بیان سے اتفاق کیا۔ سابق آرچ بشپ لارڈ کیری نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ میانہ رو مسلمانوں کی خاطر خواہ تعداد نے ’خدا کے نام پر ‘ کئے گئے حملوں کی مذمت نہیں کی ہے۔ انہوں نے یہ بیان نیویارک میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین ہونے والے ایک سیمینار کے دوران دیا تھا۔ اس بیان کے بعد مسلم رہنماؤں نے مساجد میں لوگوں سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پولیس کی مدد کریں۔ لیکن لارڈ کیری نے جب یہ کہا کہ مسلم رہنماؤں کی بہت ہی کم تعداد نے خودکش حملہ آوروں کی مذمت کی ہے تو مسلم رہنماؤں نے ان پر ’مذہبی تعصب‘ کا الزام لگایا۔ اس کے بعد کارڈینل کومک مرفی او کونر نے یہ بیان دیا کہ ’ میرے خیال میں انہوں (لارڈ کیری) نے جو کہا وہ بنیادی طور پر درست ہے۔ انہوں نے جس بات کا ذکر کیا ہے اسے اجاگر کیا جانا ضروری تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ سابق آرچ بشپ لارڈ کیری نے اپنی زندگی کا خاصا حصہ دونوں مذاہب کو قریب لانے کی کوشش کرنے میں صرف کیا ہے۔ کارڈینل کومک مرفی او کونر نے مغربی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ ناانصافی اور غربت پر قابو پرانے کی کوشش کریں جو کہ دہشت گردی کی جڑ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کارروائیاں ان ممالک سے بھی جنم لیتی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں کیا جا رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||