ہندو سےعیسائی اور ایک بار پھر ہندو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں عیسائیت اختیار کرنے والے دو سو ہندؤں نے ایک بار پھر ہندو مت اختیار کر لیا ہے۔ ہندو مت میں ان دو سو افراد کی واپسی کی تقریب کے موقع پر جمعرات کو بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی کے کئی رہنما بھی موجود تھے۔ ہندو مت ایک بار پھر واپسی کی یہ تقریب معربی اڑیسہ میں واقع جھارسوگڈا کے مندر میں ہوئی ۔ مغربی اڑیسہ میں ہی میں پہلی ان ہندو قبائل کو دوبارہ پاکیزہ کر کے ایک بار پھر ہندو بنانے کی تقریب ہوئی تھی۔ اس تقریب میں وشو ہندو پریشد وی ایچ پی یعنی عالمی ہندو کانفرنس کے عہدیدار بھی موجود تھے۔ وی ایچ پی نے، جو بھارتی جنتا پارٹی کی اتحادی اور انتہائی متحرک مذہبی گروپ ہے اس علاقے میں تحریک چلا رکھی ہے کہ وہ ان چار لاکھ ہندو کو دو بارہ ہندو مت میں واپس لائے گی جو عیسائیت اختیار کر چکے ہیں۔ وی ایچ پی کے ایک مقامی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہزارہا ہندؤں کو پیسوں کا لالچ دے کر ہندو بنا لیا گیا ہے اس لیے ان کی جماعت انہیں واپس ہندو مت میں لانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ اس تحریک میں وی ایچ پی کے ساتھ بن باسی کلیان آشرم اور بجرنگ دل کی سرگرم حمایت بھی حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||