BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 July, 2004, 10:06 GMT 15:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: پاکستانیوں کے قتل کی دھمکی
 راجہ نعیم کی اہلیہ
راجہ نعیم کی اہلیہ ان کی تصویر دکھاتے ہوئے
عربی ٹی وی چینل الجزیرہ نے ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں عراقی شدت پسند گروہ نے دعوٰی کیا ہے کہ اس نے دو پاکستانی ٹرک ڈرائیوروں اور ایک عراقی شخص کو اغوا کر لیا ہے۔

وڈیو میں دکھائے جانے والے افراد اپنا تعلق ’اسلامک آرمی ان عراق‘ نامی تنظیم سے بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ہم نے راجہ آزاد خان اور ساجد نعیم نامی پاکستانیوں کی تحقیق کی، ایک ٹیکنیشن اور ایک ڈرائیور ہے اور یہ دونوں کویتی کمپنی التمیمی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ہم نے انہیں مارنے کا فیصلہ کرلیا‘۔

اغوا کرنے والوں نے کہا ہے کہ ان دونوں کو قتل کرنے کی بنیاد چند ٹھوس شواہد ہیں اور صدر مشرف کا وہ اعلان ہے جس کے مطابق اسلام آباد عراق میں اپنی فوج تعینات کرسکتا ہے۔

راجہ نعیم کی والدہ
ساجد نعیم کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ہے۔

اپنے بیان میں اس تنظیم نے کویتی کمپنی التمیمی کے تمام ملازمین کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ عراق سے واپس نہ گئے تو ان سب کا حال انہی دو پاکستانیوں والا ہوگا۔

راجہ آزاد خان اور ساجد نعیم کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ہے۔

راجہ آزاد التمیمی کمپنی میں مینٹیننس انجینیئر ہیں جبکہ سجاد نعیم ڈرائیور ہیں۔

دونوں خاندانوں نے اغوا کاروں سے اپیل کی ہے کہ انہیں چھوڑ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان افراد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ صرف محنت مزدوری کےلیے عراق گئے تھے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اس سلسلے میں اقدامات کرنے کا بھی کہا ہے۔

راولا کوٹ کے گاؤں بنگوئی سے تعلق رکھنے والے رجہ آزاد خان کے سترہ سالہ بیٹے فیصل آزاد نے اغوا کاروں سے اپیل کی ہے کہ ان کے والد کو انسانیت اور اسلام کے نام پر چھوڑ دیا جائے۔

جبکہ راولاکوٹ ہی کے گاؤں ہرنہ مہرہ سے تعلق رکھنے والے ساجد نعیم کے چچا محمد سجاد نے اپنے بھتیجے کی بازیابی کے لیے اپیل کی ہے۔

خاندان کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق راجہ آزاد اور ساجد نعیم جمعہ کو جب اپنے کیمپ سے باہر نکلے تو ایک ناکے پر ان کو نامعلوم افراد نے روک کر گن پوائنٹ پر اغواء کر لیا تھا۔

دریس اثناء اپنے آپ کو’مجاہدین کورپس‘ کہنے والے عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے دعوٰی کیا ہے کہ اس نے اردن کے دو شہریوں کو بھی اغوا کرلیا ہے۔ اغوا کرنے والوں نے کہا ہے کہ اگر اردن کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ کاروباری روابط ختم نہ کیے تو ان دونوں افراد کو ہلاک کردیا جائے گا۔

عراق میں اس وقت تقریباً بیس غیرملکی یا تو یرغمال ہیں یا لاپتہ ہیں۔

ان میں سے کئی ڈرائیورز ہیں جو پڑوسی ملکوں سے اہم اشیاء عراق لاتے تھے۔

ادھر ایک دوسرے عراقی شدت پسند گروہ نے سات غیرملکی یرغمالیوں کے سلسلے میں مذاکرات کرنے کی مہلت بڑھا دی ہے۔ ان میں سے تین بھارتی، تین کینیا سے اور ایک مصری شہری ہے۔

اس گروہ کا مطالبہ ہے کہ اگر اس کویتی کمپنی نے جن کے لیے یہ لوگ کام کرتے تھے عراق میں کام بند نہ کیا تو وہ ان لوگوں کے سر کاٹنا شروع کر دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد