’اغواکار رقم میں دلچسپی رکھتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا کہ عراقی اغوا کار جنہوں نے تین بھارتی باشندوں سیمت سات ٹرک ڈرائیوروں کو اغوا کر رکھا ہے ، کے محرکات سیاسی سے زیادہ مالی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ سات یرغمالی جن میں تین کینیائی ، تین بھارتی اور ایک مصری ہے، کو چھوڑ دیا جائے گا۔ سات ٹرک ڈرائیوروں کو چار دن پہلے اغوا کر لیاگیا تھا۔اغوا کرنے والے نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ سنیچر کے روز تمام یرغمالیوں کو ہلاک کر دیں گے۔ کچھ پیغامات جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اغوا کاروں کی طرف سے ہیں، میں کہا گیا ہے کہ فلوجہ میں ہلاک ہونے والے عراقیوں کے خاندانوں کی مالی مدد کی جائے اور امریکی حراست میں تمام عراقیوں کو رہا کیا جائے۔ عراق میں یرغمالی بھارتی ٹرک ڈرائیوروں کے ماں باپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے اپنے تمام تر اثاثے بیچنے کے لیے تیار ہیں۔ تینتیس سالہ ٹرک ڈرائیور انتریامی کے غریب ماں باپ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اسے بیچ کر اپنے بیٹے کی رہائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انتریامی کی بوڑھی ماں اس دوران زارو قطار روتی رہی۔ یہ بدنصیب ماں تین سال پہلے اپنے بڑے بیٹے کی موت کا صدمہ برداشت کر چکی ہے اور اس کی موت کے بعد خاندان کا واحد سہارا انتریامی ہے جس عراق میں اغواء کر لیا گیا ہے۔ ایک اور مغوی کی بیوی کسم لتا نے بھی اپنے شوہر کی رہائی کے لیے اپیل کی ہے۔ کسم کی ایک دو ماہ کی بیٹی ہے جس نے ابھی تک اپنے باپ کو نہیں دیکھا۔ عراق میں اغواء ہونے والے تینوں بھارتی باشندوں کا تعلق ہماچل پردیش سے ہے۔ تیسرے مغوی چالیس سالہ تلک راج کے گھر والوں نے ان کے اغوا کیے جانے کی خبر ٹیلی ویژن پر سنی۔ تلک راج کی بیوی نے بھی اپنے شوہر کی رہائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’ مجھے پیسے کی ضرورت نہیں صرف میرے شوہر کو لوٹا دو۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||