گیلوے کے خلاف ’امریکی شہادت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سینیٹ کی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے ایسی شہادت جاری کی ہے جس سے نظر آتا ہے کہ فرانس کے ایک سابق وزیر اور برطانوی رکنِ پارلیمان جارج گیلوے کے لیےصدام حکومت نے لاکھوں بیرل تیل مختص کیا تھا جسے بیچ کر بھاری فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس عراق کی وزارتِ تیل سے حاصل کردہ ثبوت موجود ہیں اور کچھ سابق عراقی اہلکاروں نے بھی یہ کہا ہے کہ فرانسیسی وزیر اور جارج گیلوے دونوں کے لیے عراق میں اقوامِ متحدہ کے تیل برائے خوراک کے پروگرام میں لاکھوں بیرل تیل مختص کیا گیا تھا۔ جارج گیلوے نے اس الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ اس نے امریکی سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کو خط لکھا تھا کہ وہ ان کو اپنا موقف بیان کرنے کا موقع دے تاکہ اپنے خلاف الزامات کی تردید کر سکیں لیکن ان کو اس خط کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدام حسین کی حکومت نے اپنی پسند کے غیرملکیوں کے لیے تیل کی بھاری مقداریں مختص کیں جو بعد میں کمیشن کے لیے اسے فروخت کر سکتے تھے۔ تاہم رپورٹ میں اس حوالے سےکوئی ثبوت نہیں ہے کہ سابق فرانسیسی وزیر پاسکا اور جارج گیلوے نے اس سلسلے میں کوئی فائدہ اٹھایا ہے۔ دنوں نے ہی ماضی میں اسی نوعیت کے الزامات سے انکار کیا ہے۔ تیل برائے خوراک کے پروگرام کے تحت عراق کو تیل بیچنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ اس طرح حاصل ہونے والی رقم سے خوراک اور ادویات خرید سکے۔ یہ پروگرام اس وقت شروع کیا گیا تھا جب عراق کی حکومت کے سربراہ صدام حسین تھے اور عراق اقوامِ متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ جارج گیلوے نے برطانیہ کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کا رکن ہونے کے باوجود وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کے عراق کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کے فیصلے پر انتہائی کڑی نکتہ چینی کی تھی اور عندیہ دیا تھا کہ فوج کو وزیرِاعظم بلئیر کے بقول ان کے ’غیرقانونی‘ احکامات ماننے سے انکار کر دینا چاہئے۔ کچھ عرصے بعد جارج گیلوے اور لیبر پارٹی کا پینتیس برس پرانا رشتہ ٹوٹ گیا اور جارج گیلوے نے ریسپیکٹ نامی جماعت میں رکنیت حاصل کر لی اور ٹونی بلیئر پر مختلف مقامات پر تنقید کرتے رہے۔ مئی دو ہزار پانچ کے حالیہ انتخابات میں جارج گیلوے نے مشرقی لندن کے علاقے بیتھنل گرین سے ٹونی بلیئر کی جماعت کی رکنِ پارلیمان لونا کنگ کے خلاف انتخاب لڑا اور فتحیاب بھی ہوگئے۔ ان پر الزام لگا تھا کہ انتخابی مہم میں انہوں نے نسلی جذبات کو ہوا دی جس کی وجہ سے وہ یہ انتخاب جیت سکے لیکن جارج گیلوے نے بارہا اس الزام سے انکار کیا اور کہا کہ لوگوں نے انہیں جنگ کی مخالفت کرنے پر ووٹ دیئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||