| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جارج گیلووے لیبر پارٹی سے خارج
برطانیہ کی حکمراں سیاسی جماعت لیبر پارٹی نے عراق کی جنگ کے تناظر میں کڑی نکتہ چینی کرنے والے رکن پارلیمان جارج گیلووے کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ خود جارج گیلووے نے سیاسی مقاصد کو اس فیصلے کے پیچھے کارفرما قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایک دن آئے گا کہ لیبر پارٹی اس فیصلے پر پچھتائے گی۔ تاہم لیبر پارٹی کے سربراہ ایان میکارٹنے نے زور دیا ہے کہ ان کی جماعت کو ایک ایسے شخص کو پارٹی سے نکال دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے جس نے ’غیر ملکی افواج کو برطانوی افواج کے خلاف اکسایا۔‘ ایان میکارٹنے کا کہنا ہے ’جارج گیلووے لیبر پارٹی کے وہ واحد رکن پارلیمان تھے، جنہوں نے یہ کیا، اور اس پر کبھی معافی مانگی نہ ہی کبھی اپنے الفاظ واپس لئے۔‘ جارج گیلووے کا کہنا ہے کہ وہ ’یقینی‘ طور پر اگلے عام انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیں گے اور ممکن ہے کہ ضمنی انتخابات میں لیبر کے خلاف حصہ نہ لیں۔ جارج گیلووے کو ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے اپنے ایک انٹرویو کے سلسلے میں پانچ مختلف الزامات کا سامنا ہے جس میں انہوں نے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر اور امریکی صدر جارج بش کو لشکر کشی کا شکار ہونے والے عراق میں ’بھیڑیوں کی طرح‘ قرار دیا تھا۔ ان پر لگائے گئے الزامات میں عربوں کو برطانوی افواج کے خلاف اکسانا، برطانوی افواج کو حکم عدولی پر اکسانا، لیبر پارٹی کے کٹّر حامیوں کو اس بات پر اکسانا کہ لیبر پارٹی کو مسترد کردیں، پارٹی کے خلاف ڈٹ جانے کی دھمکی دینا اور ایک جنگ مخالف امیدوار کی حمایت کرنا شامل تھے۔ اگرچہ لیبر پارٹی کے اس فیصلے کی خلاف ورزی کا کوئی راستہ نہیں تاہم اسے عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ جارج گیلووے کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی عراق کی جنگ کی مخالفت کرنے والے بعض اور ارکان پارلیمان مثلاً گلینڈا جیکسن اور باب مارشل اینڈریوز کے خلاف بھی اقدام کرسکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||