BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 May, 2005, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق جنگ مخالف گیلووے کامیاب
جارج گیلوے
جارج گیلوے نے لیبر پارٹی کو کہا ہے کہ وہ ٹونی بلیئر کو فارغ کر دے۔
عراق میں جنگ کے سخت مخالف ٹونی بلئیر پر شدید تنقید کرنے والے جارج
گیلوے نے ایسٹ لندن کے ایک حلقے میں حکومتی لیبر پارٹی کے امیدوار کو ہرا دیا۔

جارج گیلوے کو پچھلے سال لیبر پارٹی سے اس وقت نکال دیا گیا تھا جب انہوں نے برطانوی فوجیوں سے کہا تھا کہ وہ عراق میں لڑنے سے انکار کردیں۔

گیلوے نے اس کے بعد ’ریسپکٹ‘ نامی پارٹی قائم کی تھی اور برطانیہ کے مسلمانوں اور جنگ مخالف ووٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی حمایت کریں۔

ریسپیکٹ پارٹی کے جارج گیلوے نےمشرقی لندن میں لیبر کی محفوظ نشست بیتھنل گرین اور بو میں لیبر کی اوونا کنگ کو شکست دیکر کامیابی حاصل کی ہے۔

جارج گیلوے ایک ایسے حلقے سے جیتے ہیں جس میں مسلمانوں کی کافی آبادی ہے۔ گیلوے نے حلقے کی بلدیاتی انتظامیہ پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے ان کو ہرانے کی پوری کوشش کی تھی۔بلدیاتی انتظامیہ نے ابھی تک اس پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

اپنی کامیابی کے بعد انہوں نے کہا لیبر پارٹی ہار عراق کی وجہ سے ہے اور لیبر کو جہاں جہاں شکست ہوئی ہے اس کی وجہ عراق ہے۔

انہوں نے مزید کہا’ جن لوگوں کو آپ نے قتل کیا ہےاور اس جنگ میں جو بھی جانی نقصان ہوا ہے وہ سب آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اس وقت لیبر پارٹی کو چاہئے کہ وہ آپ کو فارغ کر دے‘۔

جارج گیلوے کا مقابلہ لیبر پارٹی کی امیدوار اوونا کنگ سے تھا جو بلئیر وفاداروں میں سے ہیں اور عراق جنگ کی حامی تھی۔

انتخابی مہم کے دوران محترمہ کنگ کی کار کے ٹائر پھاڑ دئے گئے تھے اور ان پر انڈے اور سبزیاں پھینکی گئی تھیں۔

پچاس سالہ گیلوے کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کا سب سے اچھا کام ہے اور لیبر کے ساتھ جو ہوا اس پر انہیں بہت خوشی ہے۔

انہوں نے اپنی مخالف محترمہ کنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا انہوں نے پچھلے آٹھ سالوں میں حلقے میں بہت کام کیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ ایک قابل انسان ہیں اور سیاست اور پارلیمنٹ میں واپس آجائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی نہیں بلکہ لیبر پارٹی کی ہار ہے۔

محترمہ کنگ کا کہنا تھا کہ انہیں لیبر کی کامیابی پر بہت فخر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد