عراق: نو امریکی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک کے مغربی علاقے میں کارروائی میں نو میرین فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی ترجمان نےکہا کہ مغربی علاقے میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے والا آپریشن ختم ہو گیا ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس فوجی آپریشن میں عراق میں در اندازی کے راستوں کو روک دیا گیا ہے اور مزاحمت کارروں کے پناہ گاہوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ عراق کے جس علاقے میں فوجی آپریشن کیا گیا ہے وہ شام کی سرحد کے نزدیک ہے۔فوجی فوجی ترجمان نے کہا کہ اس آپریشن میں نو امریکی میرین اور ایک سو سے زیادہ مزاحمت کار ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی فوج نے مغربی عراق میں آپریشن کے دوران سرحدی شہر القائم کو گھیرے میں لے کر اس پر بمباری کی۔ القائم سے ملنی والی اطلاعات کے مطابق وہاں مزاحمت کار کھلے عام کارروائیاں کر رہے تھے اور شہر میں کئی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی تھیں۔ اٹھائیس اپریل کو عراق میں نئی حکومت کے اعلان کے بعد اب تک ہونے والے حملوں میں چار سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عراق میں حالیہ ہفتوں کے دوران مزاحمت کاروں کی جانب سے کارروائیوں کے سبب امریکی فوجی نے گزشتہ سنیچر میٹاڈؤر نامی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ عراق میں اٹھائیس اپریل کو نئی حکومت کی تشکیل کے اعلان کے بعد ہونے والے حملوں میں اب تک تقریباً چار سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک کے نئے وزیراعظم ابراہیم جعفری نے جمعے کو چھ ماہ سے جاری ہنگامی حالات کے اعلان کی توسیع کر دی ہے تاکہ عراقی انتظامیہ مزاحمت کاروں پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کر سکے اور وارنٹ جاری کر سکے۔ بعقوبہ میں کیے گئے کار بم حملے میں دو فوجیوں سمیت تین عراقی ہلاک ہوئے ہیں۔ مغربی بغداد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک گشتی پارٹی پر مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||