BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 May, 2005, 02:40 GMT 07:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران عراق دوستی، 35 سال بعد
برہام صالح اور کمال خرازی
برہام صالح اور کمال خرازی
گزشتہ پینتیس برس میں پہلی بار کسی ایرانی وزیرخارجہ نے عراق کا دورہ کیا ہے اور دو طرفہ تعاون کی بات کی ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے گزشتہ روز عراق کے اپنے دورے میں عراقی حکام کو یقین دلایا کے ان کا ملک ماضی کی تلخ یادیں بھلاتے ہوئے ہر میدان میں عراق کی مدد کا خواہاں ہے۔

انہوں نے عراق کے نومنتخب عبوری وزیراعظم ابراہیم الجعفری سے بھی ملاقات کی۔ ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی امریکی حملے کے بعد وہ عراق جانے والے ایران کے سب سے اعلیٰ عہدے دار ہیں۔

انہوں نے اپنے عراقی ہم منصب سے ملاقات کی ہے جس کے بعد عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زبیری نے کہا کہ دونوں ملکوں میں اب زیادہ تعاون ہوگا لیکن ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کی جائے گی۔

بی بی سی کے ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق کی نئی حکومت، جس پر شیعوں کا غلبہ ہے، ایران سے تعلقات بہتر کرنے پر زور دے رہی تھی اور اب کمال خرازی کے دورے سے دو قدیمی دشمن ملکوں کے درمیان دوستانہ فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد