امریکہ کو ایران کی دھمکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے روحانی پیشوا آئت اللہ علی خامنئی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے دور رہے۔ انہوں نے جنوب مشرقی ایران کے دورے پر سخت الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اس کا اپنا ہے اس سے امریکہ کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔ ایران کے روحانی پیشوا نے امریکہ پر گھمنڈی اور مغرور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واشنگٹن کا کام نہیں ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ کس ملک کو جوہری ٹیکنالوجی چاہئے اور کس کو نہیں چاہئے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکہ ہم سے اپنا تسلط، اپنی مداخلت، اپنی موجودگی اور ہمارے ملک کی لوٹ کھسوٹ منوانا چاہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے ان کا تسلط قبول نہیں کیا تو وہ ہم پر دہشت گردی، انسانی حقوق کے خلاف ورزی اور ایسی دوسری باتوں کا الزام لگائیں گے۔ ہماری قوم نے یہ بتادیا ہے کہ امریکی حکام کی ایسی دھمکیوں اور احمق پن کے جواب میں اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی ہیں اور ہر اس قوت سے لڑے گی جو اس کی آزادی، شناخت، قومی مفادات اور وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جون میں ہونے والے انتخابات سے جوہری پروگرام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات سے امریکہ کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے یہ دھمکی دی ہے کہ وہ اپنا معطل کیا ہوا یورینیم کی افژودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دے گا۔ ایران کو تشویش ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ جوہری مذاکرات بہت طول پکڑ رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||