جوہری مذاکرات بے نتیجہ رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران اور یورپی یونین کے درمیان جوہری مذاکرات کا نیا دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق لندن میں بند کمرے میں ہونے والے مذاکرات میں سینیئر برطانوی، فرانسیسی جرمن، اور ایرانی اہلکاروں نے شرکت کی۔ مذاکرات پر جانے سے پہلے ایرانی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر بات چیت میں کوئی خاطر خواہ ترقی نہ ہوئی تو ایران یورینیم کی افژودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ ایران نے یہ پروگرام گزشتہ سال معطل کیا تھا۔ ایران کے وفد کے اہم رہنما سائرس ناسیری نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمارا مدعا یہ ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ ہمارا ایندھن کا پروگرام ہے اور ہم اسے زیادہ دیر تک نہیں روک سکتے‘۔ یورپی ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کو مکمل طور پر جوہری پروگرام ختم کرنے پر آمادہ کر لیں۔ تاہم ایران نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اس سے قبل جمعہ کی نماز کے دوران تہران میں سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا تھا کہ ایران جوہری ٹیکنالوجی پر اپنا حق کبھی بھی نہیں ختم کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یورینیم کی افژودگی کے پروگرام کی حالیہ معطلی زیادہ دیر نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس مذاکرات کے لیے بڑا صبر ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ہر طرح کی جوہری ٹیکنالوجی رکھنا چاہتا ہے جس میں یورینیم کی افژودگی بھی شامل ہے۔ یورپی ممالک اور امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔ امریکہ نے سفارتی کوششوں کے لیے رضامندی تو ظاہر کی ہے لیکن کہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اگر یورپی یونین کے ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوں جائیں تو وہ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی حمایت کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||