ایران پرامریکی پالیسی میں تبدیلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِخارجہ کونڈالیزا رائس نے ایران کے بارے امریکی پالیسی میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ یورپین یونین کی ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی پالیسی کی حمایت کرئے گے۔ امریکی وزیرِخارجہ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت کی مخالفت نہیں کرئے گا۔ کونڈالیزا رائس نے کہا کہ امریکہ ایران کو سویلین جہازوں کے پرزے بیچنے پر بھی غور کرئے گا۔ امریکہ کی طرف سے ایران کے بارے میں اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا مقصد ایران کو یورینیم کی افزودگی کی ہمیشہ کے لیے ترک کرانے کی ایک کوشش ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایران کے بارے امریکی پالیسی میں تبدیلی بہت ہی اہم واقع ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی کی دھمکیوں کی پالیسی بے نتیجہ رہی۔ ایران نے پورپین یونین کے ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ بات چیت کے بعد یورینیم کی افزودگی کو عارضی طور پر معطل کر رکھا ہے۔ ادھر برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ اگر ایران نے یورنییم کی افزودگی دوبارہ شروع کی تو وہ ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے سامنے پیش کرنے کی مخالفت نہیں کریں گے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے پورپین یونین کے ممبران ممالک کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا دور ان کی توقعات سے زیادہ طویل ہو گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||