ایران و امریکہ، مصدق تا خاتمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان در پردہ جنگ جاری ہے جس میں فی الحال نفسیاتی محاذ کھلا ہوا ہے۔ رقابت، مخاصمت، معرکہ آرائی اور کشیدگی سے بھر پور ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی پیچیدگیوں اور گتھیوں کو سمجھنے کے لیے پچاس سال پہلے کے ان تاریخ ساز واقعات پر گہری نظر ڈالنا لازمی ہے جب پہلی بار ایران میں بادشاہت کے خلاف علم بغاوت بلند ہوا تھا اور وہ عوامی جمہوری اور قوم پرست انقلاب برپا ہوا تھا جو در حقیقت اس انقلاب کی خشت اول تھی جس کی تکمیل امام خمینی کی قیادت میں سن انہتر میں ہوئی۔ ایران کے اس اولین اور اساسی انقلاب کے بانی ڈاکٹر محمد مصدق تھے، جن کی برسی چار مارچ کو منائی گئی۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ ڈاکٹر مصدق ہی نے جنہوں نے قاچار بادشاہ کے زمانہ میں شاہی دربار میں آنکھ کھولی تھی، ایران میں بادشاہت کے خلاف پہلا نعرہ بلند کیا اور اس کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر مصدق کے والد شاہ ناصر الدین قاچار کے وزیر خزانہ تھے اور ان کی والدہ ولی عہد شہزادہ عباس مرزا کی پوتی تھیں۔ پہلوی بادشاہت کاظہور انیس سو چھ میں جب ملک کے نئے آئین کے تحت پہلی پارلیمنٹ مجلس قائم ہوئی تو ڈاکٹر مصدق اس مجلس میں اصفہان سے منتخب ہوئے تھے ۔ اس زمانہ میں ایران سنگین بحران سے گزر رہا تھا۔ ایک طرف بادشاہ جمہوریت نواز اور آزاد خیال عناصر کا قلع قمع کرنے کے درپے تھا دوسری طرف برطانیہ اور روس نے ایران پر اثر جمایا ہوا تھا اسی دوران ایرانی فوج کے بریگیڈیر رضا خان نے حکومت اور قاچار بادشاہت کا تختہ الٹ دیا اور خود تاج پہن کر پہلوی بادشاہت کے دور کے آغاز کا اعلان کیا۔
شاہ رضا پہلوی کا جھکاؤ نازی جرمنی کیطرف تھا جس کی بناء پر برطانیہ اور سویت یونین نے انہیں تخت سے دست بردار ہونے پر مجبور کیا اور ان کے کم سن بیٹے رضا شاہ کو تخت پر بٹھا کر برطانوی فوجوں نے ایران پر قبضہ کر لیا۔ ڈاکٹر مصدق نے پہلوی بادشاہت اور برطانوی فوجوں کے تسلط کے خلاف پر زور آواز بلند کی جس کی وجہ سے انہیں کئی بار جلا وطن ہونا پڑا۔ سن چالیس کے عشرہ میں جوں ہی ڈاکٹر مصدق کو وطن لوٹنے کا موقع ملا۔ انہوں نے جبھہ ملی ایران کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی اورنئی مجلس کے انتخاب میں اہم کامیابی حاصل کی۔ ایرانی بادشاہت کے خلاف پہلی بغاوت ایران کی عصری تاریخ نے سن اکیاون میں اس وقت ایک انقلابی کروٹ لی جب مجلس نے مغرب نواز وزیر اعظم علی رزم آراء کے قتل کے بعد ڈاکٹر مصدق کو نیا وزیراعظم منتخب کیا۔ وزیراعظم کے عہدہ کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلا انقلابی اقدام ڈاکٹر مصدق نے ایران کے تیل کو قومی ملکیت میں لینے کا کیا – اس وقت تک ایران کے تیل پر برطانیہ کی تیل کمپنی انگلو ایرانین آیل کمپنی کا قبضہ تھا اور اس کی آمدنی کا بڑا حصہ برطانوی تیل کمپنی کے خزانہ میں جا رہا تھا او ر بادشاہ کو خوش رکھنے کے لیے تھوڑا بہت حصہ شاہی تجوری میں۔ برطانوی حکومت کو اس کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ ایک ایرانی وزیر اعظم بیک وقت برطانیہ اور شاہ سے ٹکر لے گا۔ برطانیہ اس اقدام پر سخت طیش میں آگیا اور اس کا حلیف امریکہ بھی بھنا گیا۔ امریکہ کو برطانوی تیل کی اتنی فکر نہیں تھی جتنا کہ اسے اس بات کا خوف تھا کہ مصدق حکومت کہیں سوویت یونین سے نہ ہاتھ ملا لے اور فوجی اہمیت کے اس علاقہ میں سوویت یونین اپنا اثر نہ جما لے۔ چنانچہ برطانیہ اور امریکہ نے مشترکہ طور پر مصدق حکومت کا تختہ الٹنے کی ٹھان لی۔ یوں ان دونوں طاقتوں کی ایماء پر شاہ ایران اور مصدق کی حکومت کے درمیان شدید معرکہ آرائی کا آغاز ہوا۔
امریکہ اور برطانیہ کے دباؤ پر سن باون میں فوج اور شاہی دربار نے مداخلت کی جس کی وجہ سے ڈاکٹر مصدق کو وزارت اعظمی سے استعفٰی دینا پڑا لیکن ایران کے عوام ڈاکٹر مصدق کی برطرفی کے خلاف بپھر کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ چار روز تک ملک میں خونریز جھڑپیں ہوتی رہی اور آخر کار عوامی قوت نے شاہ اور فوج کے عزائم خاک میں ملا دیے اور مصدق دوبارہ وزارت عظمی پر فائز ہوئے۔ شاہ کا وطن سے پہلا فرار امریکہ اور برطانیہ نے جب دیکھا کہ مصدق کی سیاسی قوت کے سامنے شاہ اور فوج دونوں بے بس ہیں اور پلہ برابر مصدق کا بھاری ہے توانہوں نے مصدق کا تختہ الٹنے کے لیے راست اقدام کا فیصلہ کیا اور بادشاہ سے کہا کہ وہ مصدق کی برطرفی کے فرمان جاری کریں۔ لیکن جب شاہی گارڈز کے سربراہ یہ فرمان لے کر وزیراعظم کے دفتر گئے جہاں ڈاکٹر مصدق رہتے تھے تو مصدق کے محافظوں نے شاہی گارڈز کے سربراہ اور ان کی سپاہ کو حراست میں لے لیا۔ تہران کے عوام کو جب اس کا علم ہوا تو وہ ایک بار پھر دیوانہ وار سڑکوں پر نکل آئے اور مصدق کی حمایت میں زبردست مظاہرے کیے۔ عوام کے جذبات اتنے شدید تھے کہ ان سے خائف ہو کر شاہ ایران نے ملک سے فرار کی راہ اختیار کی اور اٹلی میں پناہ لی۔ اس دوران امریکہ کی خفیہ ایجنسی آئی اے اور برطانیہ کے خفیہ ادارے ایم آئی 6 نے یہ فیصلہ کیا کہ اب جیسے تیسے مصدق کی حکومت کا تیا پانچا کرنا بہت ضروری ہے۔ ان دونوں اداروں نے ُایجیکس، کے نام سے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا اور اس کے تحت سترہ اور اٹھارہ اگست سن تریپن کو تہران کے بدنام زمانہ علاقہ شہر نو کے غنڈوں، طوائفوں اور دوسرے شر پسندوں کو جمع کیا اور چند مذہبی رہنماؤں اور فوج کی مدد سے ڈاکٹر مصدق کے گھر پر حملہ بول دیا۔ کئی گھنٹے تک گولہ باری اور خونریز جھڑپوں کے بعد یہ حملہ آور مصدق کے گھر میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے گھر کو لوٹ مار کا نشانہ بنا کر اس کو نذر آتش کر دیا۔ مصدق اور ان کے ساتھیوں نے پڑوس کے مکان میں پناہ لی اور اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔ لیکن دوسرے دن مصدق اور ان کے سا تھیوں نے اپنے آپ کو نئے وزیر اعظم جنرل زاہدی کے حوالہ کردیا۔ ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا یوں تختہ الٹے جانے کے چند دن بعد شاہ ایران وطن لوٹے اور تخت پر پھر براجمان ہوئے ۔ ڈاکٹر مصدق کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور انہیں تین سال قید کی سزا دی گئی ۔ سزا کے خاتمہ کے بعد ڈاکٹر مصدق چار مارچ سن انیس سو سڑسٹھ میں اپنے انتقال تک گھر میں نظر بند رہے۔ شاہ ایران نے امریکہ کی مدد سے تخت پر دوبارہ قبضہ کرنے کے بعد پچیس برس تک سخت آمرانہ انداز سے حکمرانی کی اور اس دوران شاہ ایران نے ایران کو مشرق وسطی میں سیاسی ، فوجی، اور اقتصادی اعتبار سے امریکہ اور برطانیہ کے مفادات کے تحفظ کا قلعہ بنا دیا۔ ایران کے عوام کی جمہوری آرزؤں اور قوم پرست امنگوں کے لیےیہ ایک گھاؤ تھا جو وقت کے گزرنے کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرا ہوتا گیا۔ اس صورت میں ایران میں دو بڑی قوتیں بادشاہت کے خلاف معرکہ میں متحد ہوگئیں۔ ایک طرف مذہبی رہنما جو شاہ کی مغرب پرستی اور معاشرہ کو مغرب کے رنگ میں رنگنے کے خلاف تھے اور عوام پر اپنا اثر ٹوٹتا اور اپنی گرفت ڈھیلی ہوتی دیکھ رہے تھے۔ دوسری طرف کمیونسٹ تودہ پارٹی اور بائیں بازو کے آزاد خیال عناصر تھے جو ایران کو امریکہ کی جھولی میں جاتے دیکھ کر آزردہ خاطر تھے اور ایران کی تیل کی دولت کے باوجود ایران کے عوام کی غربت و افلاس اور ان کے استحصال کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ ڈاکٹر مصدق کا خواب پورا ہوا ڈاکٹر مصدق نے سن پچاس کے عشرہ میں ایران کے عوام میں جمہوریت اور قوم پرستی کی جو چنگاری بھڑکائی تھی وہ اب دھکتے ہوئے شعلہ کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ امام خمینی کی گرفتاری اس کے بعد ان کی ترکی جلاوطنی ، پھر عراق میں پناہ اور وہاں سے شاہ کے دباؤ کی وجہ سے نکالے جانے کے بعد فرانس میں قیام، گو یہ ایک شخص کی مصیبت اور اذیت کی داستان ہے لیکن ان حالات میں ایران کے عوام کے مصائب کی بھی علامت بن گئی جس کے خلاف عوام کے جذبات آتش فشا ں کی مانند پھٹ پڑے اور سن اناسی میں شاہ ایران کو عوام کی قوت کے سامنے جھک کر پھر ایک بار اپنا تخت اور وطن چھوڑنا پڑا اس بار مستقل طور پر اور اس مرتبہ نہ امریکہ ان کے تخت کو بچا سکا اور نہ اپنی سر زمین پر شاہ کو پناہ دینے کی ہمت ہو سکی ۔ اکتوبر سن اناسی میں جب ایران کی انقلابی حکومت کے اس مطالبہ کے باوجود کہ شاہ کو اس کے حوالہ کیا جائے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے امریکہ نے شاہ کو ملک میں آنے کی اجازت دی تو شدت پسند ایرانی طلباء نے تہران میں امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کر لیا اور چار سو چوالیس روز تک باون امریکی سفارت کاروں کو یرغمالی بنائے رکھا۔
سن اسی کے اوائل میں صدر جمی کارٹر نے امریکی یرغمالیوں کو رہا کرانے کے کے لیےچھاپہ مار کاروائی کا حکم دیا تھا جو بری طرح سے ناکام رہی اور آٹھ امریکی کمانڈوز جنوبی ایران کے دشت میں مارے گئے۔ جھنجھلا کر امریکہ نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیےاور امریکہ میں ایران کا کروڑوں ڈالر کا اثاثہ ضبط کر لیا۔ پھر امریکہ کی شہہ پر عراق کے حکمران صدام حسین نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی جو آٹھ سال تک جاری رہی جس میں لاکھوں ایرانی مارے گئے اور جو اقتصادی تباہی ہوئی وہ الگ۔ اسی دوران امریکی جنگی جہاز نے خلیج میں ایک ایرانی مسافر طیارہ کو مزائل کا نشانہ بنایا جس سے دو سو کے قریب ایرانی جاں بحق ہوئے۔ اسی زمانہ میں ایران نے لبنان میں حزب اللہ کی مدد اور اعانت کی اور اسے امریکی مفادات پر حملوں کے لیےاستعمال کیا۔ سن اناسی کے انقلاب نے ایران میں بادشاہت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور چونکہ اس بادشاہت کی پشت پناہی امریکہ کر رہا تھا لہذا اس کا ایران کے عوام کے غیض و غضب کا نشانہ بننا قدرتی تھا اور در اصل یہی بنیاد ہے ایران اور امریکہ کے موجودہ متحارب تعلقات کی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان یوں تو بغیر اعلان کے در پردہ جنگ جاری ہے اور اب جب کہ ایران اپنے انرجی کے مسائل کے حل کے لیےبوشہر میں روس کی مدد سے ایک جوہری بجلی گھر تعمیر کر رہا ہے امریکہ نے اسے ایران سے معرکہ آرائی کا ایک مرکزی نقطہ بنا لیا ہے اور ایران کے خلاف در پردہ جنگ میں ایک نفسیاتی محاذ کھولا ہے جس میں امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سارے مغرب کو متحد کرنے اور آئندہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیےراہ ہموار کرنے کے جتن کر رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||