ایران سے مسائل کا سفارتی حل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش اپنے دورۂ یورپ کے آخری مرحلے پر سلواکیہ پہنچ چکے ہیں جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ جرمنی کے چانسلر گرہارڈ شروڈر سے ملاقات و مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے اختلافات کے خاتمے کا اعلان کیا اور اس بات پر بھی اتفاق ظاہر کیا کہ ایران کو مبینہ جوہری تہھیاروں سے روکنے کے لیے مل جل کر کام کیا جائے گا۔ دریں اثنا ایران کے حوالے سے برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ ایران کے مسئلے کا واحد حل سفارتی کوششیں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ’ہم بلاشبہ ایرانی مسئلے کا سفارتی حل چاہتے ہیں اور صدر بش نے بھی بارہا اسے واضع کیا ہے اور اب جرمنی فرانس اور برطانیہ امریکہ کے ساتھ مل کے کسی سفارتی حل کے لیے کوشاں ہیں‘۔ امریکی صدر جارج بش نے جرمنی کے شہر مینز میں جرمنی کے چانسلر گیرہارڈ شروڈر سے ملاقات کی ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اُن مسائل پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جن پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق ہے۔ جرمنی نے عراق پر امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کی مخالفت کی تھی۔ صدر بش اپنے یورپ کے اس دورے میں عراق جنگ کے بعد سے، یورپی رہنماؤں سے عراق پر حملے کی وجہ سے بگڑنے والے تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||