جوہری مذاکرات میں ’پیش رفت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری امور پر ایران کے مذاکرات کار حسن روحانی نے جوہری امور پر نئی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ژاک شیراک سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ جوہری مسئلے پر سفارتی کوششوں میں نئی پیش رفت کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران مغربی طاقتوں کے ساتھ اپنے تنازعات ختم کرنا چاہتا ہے۔ حسن روحانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر شیراک ان بہت سارے نکات پر بات کی ہے جو صدر شیراک اور صدر بش کے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اٹھائے گئے۔ حسن روحانی فرانس سے جرمنی اور برطانیہ جانے والے ہیں جس کے بعد وہ دوسرے پورپی دارالحکومتوں کا بھی دورہ کریں گے، فرانس کے ساتھ یہ یورپی ملک اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام ختم کر دے۔ ایران اس پر پہلے بھی آمادگی کا اظہار کر چکا ہے کہ وہ جوہری اسلحہ بنانے کے لیے درکار یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا۔ اقوامِ متحدہ کی جوہری کمیٹی کے ایرانی مصالحت کار حسین مساوین نے کہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی بند کرنے کے وعدے کی پاسداری کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں سو فیصد پر اعتماد تو نہیں لیکن بہت زیادہ پر امید ہوں‘۔ ایران نے کئی بار یقین دلایا ہے کہ وہ یورپین یونین کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت اپنے جوہری پروگرام کو سوموار کو معطل کر دے گا۔ ایران نے یورپی یونین سے جوہری پروگرام کو معطل کرنے کا معاہدہ بھی کر چکا ہے لیکن امریکہ جو ایران ناور اس کے جوہری پروگرام کا سب سے بڑا مخالف ہے، یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ جوہری اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||