یورینیم افزودگی پر امریکہ کی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا کہ اس کو ایران کے طرف سے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کے ارادوں پر سخت تشویش ہے ۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران تقریباٰ چالیس ٹن یورینیم کی افزودگی کا کام دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ جان بولٹن نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی شروع کرنے کے منصوبوں سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے نہیں ہے اور اس کی مکمل چھان بین ضرورت ہے۔ جوہر توانائی کے عالمی نے کہا ہے کہ اس کے معائنہ کارروں نے اس الزام نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کو جھٹلایا ہے کہ ایران خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جوہر توانائی کے عالمی ادارے کے معائنہ کارروں کے مطابق ایران کے طرف سے کچھ آلات پر انتہائی افزودہ یورینیم کے موجود ذرعوں کے بارے میں جواب کافی معقول تھا۔ عالمی جوہری توانائی کا بورڈ ستمبر کے آخر میں یہ فیصلہ کرئے گا کہ کیا ایران نے یورینیم کی افزودگی میں خطرناک حدیں پار کی ہیں یا نہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ اس نے یورینیم کی افزودگی رضاکارانہ پر معطل کی ہوئی ہے۔ امریکہ ایران پر الزامات لگاتا رہا ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنا رہا ہے لیکن ایران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔اس کا موقف ہے کہ اس کا جوہری توانائی کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||