اجازت ضروری نہیں: خاتمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کےصدر محمد خاتمی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو پرامن جوہری سرگرمیوں کے لیے کسی سے اجازت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنارہا۔تاہم جوہری ٹیکنالوجی کے بنیادی حق کے حصول کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔ جمعرات کو ایران نے پیرس میں یورپ کے تین ملکوں سے اس سلسلے میں مذاکرات کیے تھے تاہم ان ملکوں نے یہ بتانے سے انکار کردیا تھا کہ اس بات چیت میں ایران سے جوہری پروگرام کے بارے میں کیا بات ہوئی ہے۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے صرف یہ کہا ہے کہ ایران سے مراسم کے جاری عمل کے تحت یہ بات چیت ہوئی تھی۔ ایران نے یہ بات مان لی تھی کہ وہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی مہیا کیے جانے کی صورت میں میں ایٹمی پروگرام بند کر دے گا لیکن پھر یہ الزامات لگنے شروع ہوگئے کہ ایران اس سمجھوتے پر عمل نہیں کررہا ہے جب کہ ایران کا کہنا تھا کہ کہ یورپی ملکوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||