ایران سے مذاکرات، یورپ خاموش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ کے تین ملکوں نے یہ بتانے سے انکار کردیا ہے کہ جمعرات کو پیرس میں ایران سے جوہری پروگرام کے بارے میں کیا بات ہوئی ہے۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے صرف یہ کہا ہے کہ ایران سے مراسم کے جاری عمل کے تحت یہ بات چیت ہوئی تھی۔ پچھلے سال کی بات ہے کہ یورپی یونین نے ایرانی حکومت سے ایک سمجھوتہ طے کیا تھا کہ وہ یورینیئم کو افزودہ کرنے کا پروگرام بند کردے۔ ایران نے اس شرط پر یہ بات مان لی تھی کہ اسے پرامن جوہری ٹیکنالوجی مہیا کی جائے گی۔ لیکن پھر یہ الزامات لگنے شروع ہوئے کہ ایران اس سمجھوتے پر عمل نہیں کررہا ہے۔ ایران کہتا ہے کہ یورپ والوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ لیکن جنگی تدبیر کے بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ کے گیری سیمور کہتے ہیں کہ اصل میں ایران اپنی بات سے پھر گیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ایران کے اندر طاقت کا توازن بدل گیا ہے جہاں قدامت پسندوں نے اصلاح پسندوں کو ایک کونے میں کھڑا کردیا ہے۔ قدامت پسندوں کو پوری امید ہے کہ اگلے سال وہ موجودہ صدر کی جگہ اپنا صدر منتخب کرا لیں گے۔ یعنی اندرون ملک ان کی پوزیشن بہت مضبوط ہوچکی ہے۔ جہاں تک علاقائی سیاست کا تعلق ہے تو قدامت پسندوں کے اندازے کے مطابق امریکی پوزیشن بہت کمزور ہے۔ وہ عراق میں نہ صرف چاروں طرف سے گھر کے رہ گیا ہے بلکہ وہاں استحکام لانے کے لئے بہت حد تک ایران کے تعاون پر انحصار کررہا ہے۔ اس طرف سے گویا ایران کو اطمینان ہے۔ یہ تھی گیری سیمور کی رائے۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کے پروگرام پر عمل کررہا ہے۔ وہ جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی ای اے ای کے بورڈ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ سلامتی کونسل میں ایران کی رپورٹ کرے۔ لیکن لندن میں یورپین ریفارمز کے مرکز میں سٹیون ایورٹ کہتے ہیں کہ فی الحال اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایرانیوں کا خیال ہے کہ وقت ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ امریکی عراق کی دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ کسی اور جگہ زور آزمائی کے لئے دنیا میں کہیں سے حمایت نہیں مل رہی ہے۔ اور ہم ،یعنی ایرانی، یورپ والوں کو امریکہ سے الگ تھلگ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس طرح کوئی بھی بین الاقوامی کارروائی فیصلہ کن نہیں ہوگی۔ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی ستمبر میں ایران کے معاملے پر نظر ثانی کرے گی لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ جب تک امریکہ الیکشن نہیں ہوجاتے اس وقت تک کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||