اقوام متحدہ کی ایران سے اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ نے بھی ایران سے کہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے لیے سنٹرفیوگس پرزے بنانے کا کام دوبارہ شروع نہ کرے۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے ماسکو جاتے ہوئے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روک دے گا‘۔ منگل کو ایک خط میں ایران نے عالمی ادارے کو بتایا تھا کہ وہ سنٹرفیوگس پرزوں پر دوبارہ کام شروع کرنا چاہتا ہے۔ ایران نے فروری میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ سنٹرفیوگس بنانا روک دے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اب اس معاہدے کا پابند نہیں اس لیے کہ ان ممالک نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے ہفتے کو ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ ایران کوجوہری توانائی کے پر امن مقاصد کے لیے سنٹرفیوگس پرزے بنانے کی اجازت ہے۔ مگر سنٹرفیوگس پرزے یورینیم کی افزودگی کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں جس سے جوہری اسلحہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ویانا میں بی بی سی کے نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ ایران کے اس قدم کا مغربی دنیا میں یہ مطلب لیا جا رہا ہے کہ ایران جوہری اسلحے کے پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ جوہری توانائی کےعالمی ادارے نے پچھلے ہفتے ایک قرارداد میں ایران پر تنقید کی تھی اور کہا تھا وہ اس طرح سے تعاون نہیں کر رہا جیسے اسے کرنا چاہیے۔ ایران نے بارہا یہ دعوی کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||