برطانوی اہلکار ایران سے روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کو ایران میں گرفتار کیے گئے برطانوی بحریہ کے اہلکار رہائی کے بعد اب ایران سے روانہ ہو گئے ہیں۔ ان افراد کو جمعرات کو رہا کیا گیا تھا اور پھر آٹھوں افراد کو برطانوی سفارتکاروں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ رائل میرینز کے چھ فوجی اور دو سیلرز کو پیر کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ شط العرب میں غلطی سے ایران کے پانیوں میں چلے گئے تھے۔ بدھ کو ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ایران عراق سرحد پر قبضے میں لی گئی تین برطانوی کشتیوں پر سوار آٹھ برطانوی سیلرز کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علی رضا اشرف نے کہا کہ کشتیوں اور سیلرز کو رہا کرنے کا حکم برطانوی افواج کی طرف سے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بعد کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانوی جہازی عملے کو آج رہا کیا جائےگا۔ اس عملے کو سوموار کو جنوبی شت العرب آبی راستے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ایرانی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان آٹھ سیلرز کو رہا کیا جا رہا ہے۔ برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ عملہ عراقی آبی گشتی عملے کو تربیت دے رہا تھا، اور ہو سکتا ہے کہ انہوں نے غلطی سے سرحد پار کر لی ہو۔ آٹھوں آدمیوں کو ایرانی ٹیلی وژن پر آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ انہوں نے ٹیلی وژن پر اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ غیر قانونی طور پر ایرانی سرحد میں داخل ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||