ایران: سینٹری فیوج آلات کی تیاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودہ کرنے والے سینٹری فیوج آلات بنانے کا سلسلہ پھر سے شروع کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی نے تہران میں صحافیوں کو بتایا کہ ایران نے یہ فیصلہ یورپی ملکوں کی اس وعدہ خلافی کا ردِ عمل ہے جو انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی تنازع ختم کرانے میں مدد نہ دے کر کی ہے۔ ایرا کا کہنا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جوہری روگرام پر عالمی تناع ختم کر دیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ ایران نے ابھی یورینیم کی افزودگی شروع نہیں کی۔ اقوام متحدہ کے ماہرین ایران کے بارے میں ان شبہات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ گزشہ برس اکتوبر میں ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے ساتھ اعتماد کی بحالی کے لیے اپنے جوہری پروگرام کے بعض حصوں پر کام بند کر دیا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے سینٹری فیوج آلات کی تیاری شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا یورینیم افزودگی کا پروگرام توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی افزودہ یورینیم ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی نے یہ بھی کہا کہ ایران اکتوبر میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو کرائی جانے والی اس یقین دہانی پر قائم ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ اس اعلان کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے اعتماد کو بحال رکھنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||