ایران نے الزامات مسترد کر دیئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نےگیارہ ستمبر کمیشن کی رپورٹ میں اس پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہاہے کہ یہ سب کچھ نومبر میں میں ہونے والے امریکی انتخاب کی تیاری کا حصہ ہے۔ ایران کی وازارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کمیشن کی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات لغو ہیں اور انتخابی مہم کا حصہ ہیں۔ پچھلے ہفتے جاری ہونے والی گیارہ ستمبر کمیشن کی رپورٹ میں ایران اور القاعدہ میں روابط کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر حملوں میں حصہ لینے والے آٹھ ہائی جیکروں نے ایران کے راستے افغانستان چھوڑا اور امریکہ میں پہنچ کر تباہی مچا دی۔ گیارہ ستمبر کمیشن نے البتہ کہا ہے کہ اس کے پاس کوئی شہادت نہیں ہے کہ ایران امریکہ پر حملوں میں ملوث ہے۔ ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ایران اور القاعدہ کا تعلق ثابت کرنے کی کوششیں پہلے بھی ناکام ہو چکی ہیں اور اب کی کوششیں بھی کوئی رنگ نہیں لا سکیں گیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران اور القاعدہ میں نظریاتی اختلافات کی وجہ سے کسی تعاون کا صوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ طالبان حکومت کے دوران جب القاعدہ اپنے عروج پرتھی اس وقت ایران اور افغانستان میں اختلافات اتنے بڑھ چکے تھی کہ دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے آ چکی تھیں۔ ایران ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ طالبان اور القاعدہ امریکی پیداوار ہے ۔ ایران نے اس بات کی تردید نہیں کی ہے کہ آٹھ ہائی جیکروں نےشاید ایران کے راستے سفر کیا ہو۔ ایران کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اس کی سرحد بہت لمبی ہے اور اس پر نقل ہر حمل کی مکمل طور پر نگرانی مشکل ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے سارے وسائل کے باوجود میکسیکو کے اپنی سرحد کو کبھی بھی مکمل طور پر قابو نہیں کر سکا ہے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے سینکڑوں القاعدہ کے لوگوں کو پکڑ کر ملک بدر کیا ہے۔ ایران نے اب بھی القاعدہ کے کچھ لوگوں کو پکڑ رکھا ہے لیکن ان کی شناخت ظاہر کرنے اور ان کو امریکہ کے حوالےکرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||