ایٹمی پروگرام کے بدلے فوائد پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ترک کرنے کے بدلے میں دیگر فوائد دینے پر غور کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ میکلیلن نے کہا ہے کہ صدر بش اس ضمن میں ان تجاویز پر غور کر رہے ہیں جو گزشتہ ہفتے ان کی یورپی سربراہان کے ساتھ ملاقات کے دوران زیر بحث آئی تھیں۔ تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ صدر بش اس معاملے پر فیصلہ کب کریں گے؟ فرانس، جرمنی اور برطانیہ، ایران کو اس بات پر رضامند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ تجارت و ٹیکنالوجی کے میدان کے فائدے حاصل کرنے کے بدلے میں اپنا ایٹمی منصوبہ مستقل طور پر ترک کر دے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی طرف سے تعاون کی صورت میں اُسے بالآخر عالمی ادارہ برائے تجارت کی رکنیت دی جا سکتی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے امریکہ کی طرف سے یورپی منصوبے کی حمایت واشنگٹن کی پالیسی میں ایک اہم موڑ ہو گی۔ یورپی اتحاد نے ایران سے گفت و شنید کی کوشش کی ہے جبکہ امریکہ سخت موقف اپنانے کے حق میں رہا ہے۔ امریکہ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بجلی پیدا کرنے کی غرض سے اپنائی گئی ایٹمی ٹیکنالوجی کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری منصوبہ ہر طرح سے پُر امن ہے۔ گزشتہ برس کے اواخر میں ایران نے یورپی اتحاد کے ساتھ اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ منجمد کر دے گا کیونکہ اس عمل کی مدد سے جوہری ہتھیار یا ایٹمی پاور پلانٹ تیار کیے جا سکتے ہیں۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ، ایران کو اس بات پر رضامند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ تجارت و ٹیکنالوجی کے میدان کے فائدے حاصل کرنے کے بدلے میں اپنا ایٹمی منصوبہ مستقل طور پر ترک کر دے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||