’ایران نے حساس سامان خریدا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی تقتیش کاروں نے ایرانی حکام اور پاکستان کےجوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھیوں کے درمیان اٹھارہ برس قبل ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کے ثبوت پیش کیے ہیں۔ تقتیش کاروں کا کہنا ہے کا اس ملاقات کے نتیجے میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق مدد کی ایک تحریری پیشکش کی گئی۔ اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ ملاقات 1987 میں دبئی میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ایران نے سینٹری فیوگ ڈیزائن اور یورینیم افزودہ کرنے کے ابتدائی مراحل کا سامان خریدا تھا۔ اخبار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایران نے حال ہی میں بین الاقوامی جوہری ایجنسی کو بتایا ہے کہ اس نے ایٹم بم بنانے کے لیے درکار حساس سازوسامان موقع ملنے کے باوجود نہیں خریدا تھا تاہم اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ ایران نے ڈاکٹر قدیر خان کی پیشکش کے ذریعے کچھ حساس مواد حاصل کیا تھا۔ اخبار نے ایک مغربی سفارتکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ یہ پیشکش اس چیز کی جانب سب سے مضبوط اشارہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تاہم یہ رپورٹ اس بات کا مکمل ثبوت نہیں ہے‘۔ اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تمام سامان جو کہ ایران نے حاصل کیا تھا وہ پر امن مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ ایران پر خفیہ طور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگاتا آیا ہے جبکہ ایران کا اصرار رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||