ایران کے لیے روسی ایٹمی ایندھن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران اور روس اتوار کو اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں جس کے تحت ایران کو پہلی بار جوہری ایندھن فراہمی شروع ہو گی۔ اس معاہدے میں پر پہلے سنیچر کو دستخط ہونے والے تھے لیکن بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی پہلی فراہمی کے نظام الاوقات پر ہونے والے اختلافات کی وجہ سے معاہدے پر دستخط ملتوی کر دیے گئے۔ تاہم فریقین کے درمیان بات چیت جاری رہی۔ اب اس معاہدے پر روس کی جانب سے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ الیگزنڈر رمیانتسف اور ایران کی جانب سے اس کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ غلام رضا آقازادہ دستخط کریں گے۔ اس معاہدے میں یہ بات شامل ہے کہ ایران استعمال شدہ ایندھن واپس روس کو فراہم کرے گا۔ یہ معاہدہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے ایران کا بوشہر میں واقع واحد جوہری ری ایکٹر کام کرنے لگے گا۔ پہلے بتایا گیا تھا کہ ماسکو اور تہران سنیچر کو ایک معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔ امریکہ روس سے اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ ایران استعمال شدہ ایندھن کی راڈز کو ایٹمی اسلحہ بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے سلواکیہ میں امریکی صدر بش سے ملاقات کے دوران اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے چاہیں۔ صدر پوتن نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایسی کوئی شہادت نہیں ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔ روسی ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ الیگزنڈر رمیانتسف تہران اور ماسکو کے درمیان بوشہر کے ایٹمی ری ایکٹر کے لیے ایندھن فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تہران میں ہیں۔ ایران میں روس کے سفیر الیگزنڈر ماریاسوف نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے ایران پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ایندھن کا استعمال شروع کر دے گا۔ ایران کئی بار واضع کر چکا ہے کہ وہ جوہری اسلحہ بنانے کے لیے درکار یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||