ایران کے لیے روسی ایٹمی ایندھن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماسکو اور تہران سنیچر کو ایک معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں جس کے تحت روس بوشہر کے ایٹیمی ری ایکٹر کے لیے ایندھن فراہم کرے گا۔ واضح رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے سلواکیہ میں امریکی صدر بش سے ملاقات کے دوران اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے چاہیں۔ صدر پوتن نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایسی کوئی شہادت نہیں ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔ روسی ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ الیگزنڈر رمیانتسف تہران اور ماسکو کے درمیان بوشہر کے ایٹمی ری ایکٹر کے لیے ایندھن فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تہران پہنچ چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایران تمام استعمال شدہ فیول راڈز واپس روس کو فراہم کرے گا۔ امریکہ روس سے اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ ایران استعمال شدہ ایندھن کی راڈز کو ایٹمی اسلحہ بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایران میں روس کے سفیر الیگزنڈر ماریاسوف نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے ایران پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ایندھن کا استعمال شروع کر دے گا۔ ایران کئی بار اس آمادگی کا اظہار کر چکا ہے کہ وہ جوہری اسلحہ بنانے کے لیے درکار یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||