BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 March, 2005, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران: بش سفارتی حل کے حامی
بش
’ مجھے اس بات سے خوشی ہوئی ہے کہ ہمارا اور ہمارے یورپی دوستوں کا مؤقف ایک ہو گیا ہے۔‘
امریکہ نے ایران کے بارے میں اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیا ہے اور ایران کو مجوزہ ایٹمی سرگرمیاں ترک کرنے کے عوض معاشی ترغیبات دینے کا اعلان کیا ہے۔

ان ترغیبات کے تحت ایران کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت پر گزشتہ ایک دہائی سے عائد پابندی اٹھا لی جائے گی اور ایران تجارتی جہازوں کے پرزے دوبارہ خرید سکے گا۔

امریکہ کے ان اعلانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران کے معاملے کو حل کرنے کے لیے یورپی ممالک کی مجوزہ سفارتی کو ششوں کے منصوبے کے ساتھ ہے۔

امریکی صدر جارج بش نے جمعہ کو کہا کہ ’ مجھے اس بات سے خوشی ہوئی ہے کہ ہمارا اور ہمارے یورپی دوستوں کا مؤقف ایک ہو گیا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ میں اپنے یورپی دوستوں کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کو یہ باور کروانا چاہتا ہوں کہ اس دنیا کو اس کے ایٹمی ہتھیار قبول نہیں ہیں‘۔

امریکی انتظامیہ کی دو اہم ترین شخصیات نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اب ایران کے معاملے میں یورپی پالیسی کے ساتھ ہے تاہم انہوں نے امریکہ کی جانب سے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی یکسر مسترد نہیں کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے کہا کہ ’ صدر بش کا فیصلہ ایران سے یورپی ممالک کے مذاکرات کے حمایت کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم یہ بات واضح کر رہے ہیں کہ ہم ڈبلیو ٹی او میں ایران کی شمولیت پر عائد پابندی اٹھ لیں گے اور ہم ایران کو تجارتی جہازوں کے پرزوں کی تجارت کی اجازت بھی دے سکتے ہیں۔‘

امریکی نائب صدر ڈک چینی کا مؤقف اس معاملہ میں خاصا سخت تھا ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر ایران ایٹمی پروگرام سے متعلق اپنے بین الاقوامی وعدے پورے نہیں کرتا تو یقیناً ہمیں سخت ایکشن لینا ہو گا‘۔

ایران کے ایک سینیئر مذاکرات کار سرس نظیری کا کہنا تھا کہ ’ امریکی قدم اس قابل نہیں کہ اس پر تبصرہ کیا جا سکے اور اس سے ایران اور یورپ کے مزاکرات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اعلان کرتا رہا ہے اور وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے انکار کرتا آیا ہے۔ ایران نے یورینیم کی افزودگی بھی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین یورینیم کی افزودگی کی معطلی کے عمل کومستقل کرنے پر زور دے رہے ہیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہوں نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندیاں لگانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد