ایران:امریکی پیشکش مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے ایٹمی سرگرمیاں ترک کرنے کے عوض معاشی ترغیبات سے متعلق نئی امریکی پیشکش مسترد کر دی۔ ایک ایرانی ترجمان کے مطابق کوئی دباؤ، لالچ یا دھمکی ایران سے اس کا جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کا حق نہیں چھین سکتی۔ امریکہ نے ایران کو مجوزہ ایٹمی سرگرمیاں ترک کرنے کے عوض معاشی ترغیبات دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان ترغیبات کے تحت ایران کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت پر گزشتہ ایک دہائی سے عائد پابندی اٹھا لی جائے گی اور ایران تجارتی جہازوں کے پرزے دوبارہ خرید سکے گا۔ لیکن ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ایران سے روا رکھی جانے والی کچھ غلطیوں کا ازالہ کر کے اور اس پر عائد کچھ پابندیوں کو ختم کر کے ایران کو اس کے حق سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ غیر فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں کے پرزوں کی خرید پر کوئی پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے تھی اور اب اس پابندی کا اٹھایا جانا کوئی ترغیب نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈبلیو ٹی او میں شمولیت دنیا کے ہر ملک کا حق ہے۔ امریکی انتظامیہ کی دو اہم ترین شخصیات نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اب ایران کے معاملے میں یورپی پالیسی کے ساتھ ہے تاہم انہوں نے امریکہ کی جانب سے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی یکسر مسترد نہیں کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے کہا کہ ’ صدر بش کا فیصلہ ایران سے یورپی ممالک کے مذاکرات کے حمایت کرتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم یہ بات واضح کر رہے ہیں کہ ہم ڈبلیو ٹی او میں ایران کی شمولیت پر عائد پابندی اٹھ لیں گے اور ہم ایران کو تجارتی جہازوں کے پرزوں کی تجارت کی اجازت بھی دے سکتے ہیں۔‘ امریکی نائب صدر ڈک چینی کا مؤقف اس معاملہ میں خاصا سخت تھا ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر ایران ایٹمی پروگرام سے متعلق اپنے بین الاقوامی وعدے پورے نہیں کرتا تو یقیناً ہمیں سخت ایکشن لینا ہو گا‘۔ ایران کے ایک سینیئر مذاکرات کار سرس نظیری کا کہنا تھا کہ ’ امریکی قدم اس قابل نہیں کہ اس پر تبصرہ کیا جا سکے اور اس سے ایران اور یورپ کے مزاکرات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا اعلان کرتا رہا ہے اور وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے انکار کرتا آیا ہے۔ ایران نے یورینیم کی افزودگی بھی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین یورینیم کی افزودگی کی معطلی کے عمل کومستقل کرنے پر زور دے رہے ہیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہوں نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندیاں لگانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||