ایران و یورپی مذاکرات بے نتیجہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تین یورپی ملکوں اور ایران کے درمیان پیرس میں جاری بات چیت کسی سمجھوتے کے بغیر ختم ہو چکی ہے۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے نمائندوں سے مذاکرات کے بعد ایران کے سینئر مذاکرات کار سیروس ناصری نے ایران جوہری افزودگی کے لیے اپنا پروگرام ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایرانی مذاکرات کار نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران مزید بات چیت ہو گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران چاہتا ہے کہ بات چیت میں پیش رفت ہو ۔ برھانیہ، فرانس اور جرمنی یورپی یونین کی جانب سے ایران کو جوہری پروگرام میں یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کے بدلے میں اقتصادی، سیاسی اوت ٹیکنیکی سہولتیں فراہم کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایٹمی توانائی کے سربراہ البرادئی نے امریکہ کو تجویز کیا تھا کہ ایٹمی پروگرام سے روکنے کے لیے ایران کو اس کی سلامتی کی ضمانت دی جائے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکے اور اسراییل اس بات کی ضمانت دیں کے وہ اس پر حملہ نہیں کریں گے۔ امریکہ نے جمعہ کو البرادئی کی اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ ایران کو اس کی سلامتی کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||