ایران: مزید رعایتوں کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر تنازعے کو ختم کرنے کے لیے امریکہ سے مزید رعایتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے پہلے اس نے ایٹمی سرگرمیاں ترک کرنے کے عوض معاشی ترغیبات کی امریکی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ ایران کے ایک سینیئر مذاکرات کار حسین موسیان نے ایرانی مطالبات کے بارے میں بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان مطالبات میں یہ بات شامل ہے کہ امریکہ ایرانی اثاثے واگزار کرے، ایران پر لگائی جانے والی پابندیاں ختم کی جائیں اور ایران کے خلاف کیے جانے والے اشتعال انگیز اقدام کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جمعہ کو ایران کے بارے میں امریکی پالیسی ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کو مجوزہ ایٹمی سرگرمیاں ترک کرنے کے عوض معاشی ترغیبات کی پیشکش کی تھی۔ امریکی وزیرِخارجہ کونڈالیزا رائس نے ایران کے بارے امریکی پالیسی میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے یورپی یونین کی کی پالیسی کی حمایت کرے گے۔ امریکی وزیرِخارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ ایران کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت کی بھی مخالفت نہیں کرئے گا۔ کونڈالیزا رائس نے کہا کہ امریکہ ایران کو سویلین جہازوں کے پرزے بیچنے پر بھی غور کرئے گا۔ تاہم ایران نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی دباؤ، لالچ یا دھمکی ایران سے اس کا جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کا حق نہیں چھین سکتی۔
ان ترغیبات کے تحت ایران کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شمولیت پر گزشتہ ایک دہائی سے عائد پابندی اٹھا لی جائے گی اور ایران تجارتی جہازوں کے پرزے دوبارہ خرید سکے گا۔ لیکن ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ایران سے روا رکھی جانے والی کچھ غلطیوں کا ازالہ کر کے اور اس پر عائد کچھ پابندیوں کو ختم کر کے ایران کو اس کے حق سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ غیر فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں کے پرزوں کی خرید پر کوئی پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے تھی اور اب اس پابندی کا اٹھایا جانا کوئی ترغیب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایران کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ٹی او میں شمولیت دنیا کے ہر ملک کا حق ہے۔ امریکی انتظامیہ کی دو اہم ترین شخصیات نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اب ایران کے معاملے میں یورپی پالیسی کے ساتھ ہے تاہم انہوں نے امریکہ کی جانب سے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی یکسر مسترد نہیں کیا ہے۔ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا موقف رکھتا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے انکار کرتا آیا ہے تاہم اس کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے یورینیم کی افزودگی بھی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین یورینیم کی افزودگی کی معطلی کے عمل کومستقل کرنے پر زور دے رہے ہیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہوں نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندیاں لگانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||