امریکہ: برادئی کی اپیل مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ایٹمی کنٹرول کے عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادئی کی یہ اپیل مسترد کر دی ہے کہ ایران کو اس کی سلامتی کی یقین دہانی کرائی جائے۔ محمد البرادئی نے اپیل کی تھی کہ ایران اور یورپی اقوام کے درمیان جاری کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کو چاہیے کہ وہ ایران کو کو اس کے تحفظ کے لیے یقین دہانی کرائے۔ امریکی دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امریکہ کیا کر رہا ہے اور اسے کیا کرنا چاہیے بلکہ یہ کہ ایران کیا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بتانا ہے کہ وہ خفیہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے اپنی کوششوں پر عالمی برادری کی تشویش کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدام کر رہا ہے۔ ایران نہ کہا تھا کہ اسے یہ یقین دہانی کرائی جانی چاہیے کہ امریکہ یا اسرائیل اس پر حملہ نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر تنازعے کو ختم کرنے کے لیے امریکہ سے مزید رعایتوں کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ ایران کے ایک سینیئر مذاکرات کار حسین موسیان نے ایرانی مطالبات کے بارے میں بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان مطالبات میں یہ بات شامل ہے کہ امریکہ ایرانی اثاثے واگزار کرے، ایران پر لگائی جانے والی پابندیاں ختم کی جائیں اور ایران کے خلاف کیے جانے والے اشتعال انگیز اقدام کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جمعہ کو ایران کے بارے میں امریکی پالیسی ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کو مجوزہ ایٹمی سرگرمیاں ترک کرنے کے عوض معاشی ترغیبات کی پیشکش کی تھی۔
اس دوران محمد ابرادئی نے کہا ہے کہ اس سے یہ اندازہ نہیں لگایا جانا چاہیے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوششیں بحران کا شکار ہوگئی ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ایران سے مذاکرات کامیبی سے ہم کنار ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||