BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 March, 2005, 04:31 GMT 09:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی اردنی سفارتی تعلقات خراب
عراق اردن
اردنی سفارتخانے پر مظاہرے کا دوران مظاہریں سفارتخانے کی عمارت پر بھی چڑھ گئے
عراق اور اردن کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔

ان اختلافات کی وجہ عراقی حکومت کا یہ موقف ہے کہ اردن عراق میں ہونے والی مسلح مزاحمت کاری میں خاصی حد تک ملوث ہے۔

عراق کے وزیرخارجہ ہوشیار زیباری کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے اپنا سفیر ناراضگی کے اظہار کے لیے واپس بلایا ہے۔

اردن نے اپنے سفیر کو اس سے پہلے ہی واپس بلا لیا تھا اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ اس کا سفارت خانہ عراق میں مخفوظ نہیں ہے۔

اردن نے یہ فیصلہ عراق میں اپنے سفارتخانے کے بارہ ہونے والے ایک مظاہرے کے بعد کیا تھا۔ اس مظاہرے کے دوران اردن کے پرچم نذرِ آتش کیے گئے تھے۔

شیعہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اردن موصل میں مسجد پر ہونے والے حملے میں ملوث تھا۔

جب کے دوسرے ذرائع کے مطابق شیعہ گروپ اس بات پر ناراض ہیں کہ جب 28 فروری کو جنوبی بغداد کے ایک سو پچیس افراد ہلاک ہوئے تھے تو ایک اردنی خاندان منصور البنّا اس حود کش حملے کا جشن منایا تھا۔

مظاہرہ
مظاہرین نے اردنی پرچم بھی نذرِ آتش کیا

اس حملے میں جو پولیس والے اور فوجی رنگروٹ ہلاک ہوئے تھے وہ تمام کے تمام شیعہ تھے۔

تاہم منصور البنّا خاندان نے مذکورہ خود کش حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کہیں بھی کسی خود کش حملے میں ملوث نہیں ہے۔

اس دوران ایک عراق وزیر کے اغوا ہونے کی خبر غلط ثابت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد