BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 May, 2005, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: سب سے بڑی فوجی کاروائی
عراق میں فوجی کاروئی
شام کی سرحد کے قریب امریکی فوجی کاروائی شدت پسندوں اور غیر ملکیوں کے خلاف تھی۔
عراق کےدارالحکومت بغداد میں مزید خود کش حملے ہوئے ہیں۔ یہ حملے اس امریکی دعوےٰ کے بعد ہوئے ہیں جس کے مطابق امریکی فوج نے شام کی سرحد کے قریب سو سے زائد مزاحمت کاروں کو ہلاک کیا ہے۔

یہ حالات اور حملے، عراق میں امریکی فوجی کاروائی کی حکمت عملی اور مزاحمت کی نئی لہر، یہ سب کس بات کا اشارہ دے رہے ہیں۔ اس کا تجزیہ کر تے ہوئے بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار نک چائیلڈ کہتے ہیں کہ جنگ کے اس مشکل مرحلے میں اطلاعات کا شعبہ انتہائی اہم ہے۔ اور ظاہر ہے شورش کی اس نئی لہر میں مزاحمت کاروں نے پہلے ہی پروپیگینڈا جنگ کے میدان میں کافی کامیابیاں حاصل کر لیں ہیں۔

لہٰذا یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ امریکی اپنی کامیابیوں کا خود ہی ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں، یعنی یہ کہ ایک سو مزاحمت کاروں کو شام کی سرحد کے قریب ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مگر ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو اسی دعوے میں وہ اس کاروائی کی ایک اور اہمیت کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں یعنی یہ کہ یہ فوجی کاروائی، فلوجا میں مزاحمت کو کچلنے کیلئے جو فوج کشی کی گئی تھی، اس کاروائی کے بعد سب سے بڑی ہے۔

اس کے باوجود امریکی فوجیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی فوجی حکمت عملی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مگر عراقی سپہیوں پر مشتمل نئی فوج کی صفوں کو کسی بھی کاروائی کے دوران آگے آگے رکھنے کی حکمت عملی اب تک موثر ثابت نہیں ہو سکی ہے اور یہ انتہائی سست بھی رہی ہے۔

امریکی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ انھیں مزاحمت کاروں پر دباؤ بڑھا کر رکھنا ہے باوجود اس کے کہ مزاحمت کار بھی امریکی فوج پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں خود کش بمباروں کے حملے ان کے دباؤ بڑھانے کی کوششوں کا واضح ثبوت ہیں۔

عراق کے مغرب میں شام کی سرحد کے قریب اس امریکی کاروائی کا ان اطلاعات سے کوئی تعلق دکھائی دیتا ہے کہ عراق میں حالیہ مزاحمت میں غیر ملکیوں کا اور وہ افراد جنھیں امریکی شدت پسند عراقی کہتے ہیں ان کا خاصا کردار ہو، نہ کہ معزول بعث حکومت کے بچے کھچے عناصر کا۔

اس سلسلے میں کچھ تجزیہ نگار ان تازہ حملوں میں خود کش بمباروں کی شمولیت کو ایک ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

مگر خود امریکی انٹیلی جینس ادارے اس پر مختلف آرا رکھتے ہیں۔ اسی طرح اس بات پر بھی کہ کیا مزاحمت کار اس نئی لہر کی قوت کو برقرار رکھ پائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد