کرد علاقہ: بم حملے میں 20 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اتوار کے حملوں میں 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں 20 کر علاقے میں بم حملے کا نشانہ بنے ہیں۔ شمالی عراق کے کرد علاقے میں ہونے والے حملے کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر خود کش حملہ دکھائی دیتا ہے۔ اور اس میں بیس افراد کی ہلاکت کے علاوہ تیس کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ موصل کے قریب طلفار کے دیہات میں کیا گیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جس جنوبی عراق میں امریکی فوجی ان مزاحمت کاروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی جن پر انہیں شک ہے کہ وہ برطانوی امدای کارکن مارگریٹ حسین کے قتل میں ملوث ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران کچھ شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ اس سے قبل اتوار کو بغداد میں مزاحمت کاروں کی ایک اور کارروائی کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار اور چار عام شہری ہلاک ہو گئے۔ پولیس اہلکار دارالحکومت بغداد کے نواح میں قائم ایک چوکی پر کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں پانچ ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ ذافرانیہ کے علاقے میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں چار عام شہری ہلاک اور بارہ زخمی ہو گئے۔ مزید براں امریکی فوج کے زیر استعمال ملٹری کالج کے قریب پولیس ناکے کے قریب ہونے والے حملے کے کچھ ہی دیر بعد کار بم کا ایک دھماکہ بھی ہوا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس ناکے کے قریب ایک لاری رکی جس میں سے مشین گنز اور راکٹ سے چلنے والے بموں سے لیس افراد باہر آئے اور چوکی پر حملہ کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||