گوانتانامو: میں نے کیا دیکھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو کے کیمپ ایکسرے میں بطور مترجم کام کرنے والے ایک سابق امریکی فوجی کی شائع ہونے والی کتاب میں گوانتانامو کے قیدیوں پر مظالم کی تصویر کا ایک اور پہلو سامنے آیا ہے۔ سارجنٹ ایرک سار کی کتاب ” انسائیڈ دی وائر” ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عراق کی ابوغریب جیل میں قیدیوں سے ازیت آمیز سلوک کرنے والوں کی عدالتی سماعت کی وجہ سے امریکی فوج کی قیدیوں پر زیادتیوں کا معاملہ ایک بار پھر شہہ سرخیوں میں ہے۔ بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران سارجنٹ سار نے کہا کہ گوانتانامو میں تیسرے درجے کی جنسی ازیت رسانی نے عراق میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے لئے خطرناک مثال قائم کی۔ سارجنٹ سار کا کہنا ہے کہ گوانتانامو کیمپ کے نظام میں اصلاحات کی کوششوں کے باوجود اب بھی وھاں ان اقدار کی پامالی جاری ہے کہ جنہیں بچانے کے لئے امریکہ دھشت گردی کے خلاف نبردآزما ہے۔ سارجنٹ سار نے قیدیوں سے برے طریقے سے تفتیش کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ گوانتانامو میں بطور عربی مترجم اپنے چھ ماہ کے قیام کے دوران اس نے ایک خاتون تفتیش کار کو ایک سعودی قیدی کا حوصلہ توڑتے ہوئے دیکھا۔اس سعودی کو فضائی تربیت کے ایک امریکی اسکول میں داخلے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ سارجنٹ سار کے بقول بیڑیوں میں بندھے اس سعودی قیدی کے کپڑے خاتون تفتیش کار سارجنٹ بروک نے پھاڑنے شروع کئے اور ساتھ ہی ساتھ اس قیدی کی مردانگی پر گھٹیا قسم کی طعنہ زنی شروع کردی۔ پھر یہ تفتیش کار بروک کمرے سے باہر نکل گئی اور تھوڑی دیر بعد ایک سرخ رنگ کا مارکر لے کر آئی اور قیدی کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنے ایک ہاتھ کو مارکر سے سرخ کیا اور پھر اس ہاتھ کو اپنے زیر جامے میں ڈال کر قیدی کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور اچانک زیر جامے سے سرخ روشنائی سے آلودہ ہاتھ نکالا۔جس سے قیدی کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ بروک کے ہاتھ ماہواری کے خون سے آلودہ ہوں۔اس نے یہی ہاتھ قیدی کے منہ پر مل دیا اور قیدی غصے اور بے بسی سے پاگل ہوکر اپنی ہتھکڑیاں توڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس دوران بروک اس قیدی پر اللہ کی مدد کے حوالے سےفقرے بازی کرتی رہی۔اس ازئیت ناکی کے بعد قیدی کو منہ صاف کرنے کے لئے پانی فراہم کئے بغیر اسکے سیل میں واپس بھیج دیا گیا۔ سارجنٹ ایرک سار نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ گوانتانامو میں خود کشی کی کوششوں کا تناسب اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ امریکی حکام بتاتے ہیں۔ سارجنٹ سار کے بقول اگرچہ امریکی حکومت کہتی ہے کہ گوانتانامو میں بدترین قیدی رکھے گئے ہیں تاہم میرے خیال میں چھ سو قیدیوں میں سے صرف چند درجن ہی خطرناک دہشت گرد ہوں گے۔ امریکی حکام نے ایرک سار کی کتاب میں لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ کیمپ کا دورہ کرنے والے انسپکٹروں کے سامنے قیدیوں سے باقاعدہ تفتیشی عمل اسٹیج شو کی طرح سے پیش کیا جاتا ہے۔ ایک امریکی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سارجنٹ سار نے کیمپ میں محض ایک جونئیر کلرک کے طور پر کام کیا ہے اس لئے انہیں اندازہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تفتیشی منصوبہ بندی اور اس سے متعلق فیصلے کرنے کا کیا طریقِ کار ہے۔ امریکی فوج قیدیوں سے تفتیش کا ایک نیا مینوئیل جاری کرنے پر کام کررہی ہے جس میں قیدیوں سے سلوک کے بارے میں جنیوا کنونشن کی روشنی میں اس امر کا خیال رکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ قیدیوں سے کس طرح غیر ضروری ازئیت رسانی کے بغیر باتیں اگلوائی جا سکیں۔ مثلاً تفتیش کار قیدی پر دباؤ ڈالنے کے لئے غصے کا تاثر دیتے ہوئے دیوار پر کرسی مار سکتا ہے لیکن قیدی پر براہ راست کرسی نہیں پھینک سکتا۔ گذشتہ مارچ میں پینٹاگون نے عراق، افغانستان اور گوانتانامو میں مبینہ زیادتیوں کی ایک سو ستاسی تحقیقات کی ایک مجموعی جائزہ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قیدیوں سے تفتیش کی مروجہ پالیسی کے نتیجے میں زیادتیاں نہیں ہوئیں بلکہ یہ انفرادی افعال کی بنیاد پر ہوئیں۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں پینٹاگون کے اس تجزئے کو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر قرار دیتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||