امریکی تشدد: معظم بیگ کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو بے میں دو سال قید رہنے کے بعد رہا ہونے والے پاکستانی نژاد برطانوی شہری معظم بیگ نے بھی امریکی فوجیوں فوجیوں پر ایذا رسانی کے الزامات لگائے ہیں۔ معظم بیگ نے برطانوی ٹی وی ’چینل فور‘ پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کہ گوانتاناموبے منتقلی سے قبل افغانستان میں بگرام کے فوجی اڈے میں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنیا گیا۔ انہوں مزید بتایا ہے کہ بگرام ہی میں ان کے سامنے دو قیدیوں کو اتنا مارا گیا کہ وہ مبینہ طور پر ہلاک ہوگئے۔ اس سے پہلے مراکش کے دارالحکومت رباط میں گوانتاناموبے میں قید رہنے والے پانچ مراکشی باشندوں نے خود پر چلائے جانے والے مقدمہ کی کارروائی کی دوران الزام لگایا ہے کہ قید کے دوران بارہا امریکی فوجیوں نے انہیں برہنہ کیا۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے گوانتانامو بے میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات کے بارے میں از سرِ نو تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ اندرونی تحقیقات کا حکم امریکہ کی جنوبی کمان کے سربراہ نے دیا ہے۔ کیونکہ گوانتانامو بے ان کے دائرۂ عمل میں آتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||