گوانتاناموبے:ایک قیدی کی رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو کے قیدیوں کے مقدمات کا جائزہ لینے والے فوجی ٹریبونل نے پہلی بار ایک قیدی کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جولائی میں قائم ہونے سے اب تک اس ٹریبونل میں تیس قیدیوں کے معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جن میں سے ایک کے سوا ان تمام کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں بدستور ’دشمن جنگجو‘ کی حیثیت سےحراست میں رکھا جائے۔ اس ٹریبونل کو امریکی سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا جس کا کہنا تھا کہ قیدی اپنی حراست کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ گوانتانامو میں چھ سو کے قریب افراد زیر حراست ہیں تاہم انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی صفائی کے لیے وکیل کر سکیں۔ یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ جس قیدی کو رہائی ملنے والی ہے وہ کون ہے لیکن ٹریبونل کے انچارج امریکی بحریہ کے سیکریٹری گورڈن انگلینڈ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ جس قیدی کو رہائی ملنے والی ہے وہ بے گناہ ہے یا اسے غلطی کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ گوانتاناموبے سے کسی قیدی کی رہائی کا یہ پہلا موقع نہیں ہے اور اس سے پہلے ایک سو پچاس افراد کو رہا کیا جا چکا ہے جو اپنے اپنے ملکوں کی تحویل میں ہیں۔ تاہم ٹریبونل سے رہائی پانے والا یہ پہلا قیدی ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||