گوانتانامو: قیدیوں کی پہلی سماعت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے گوانتا نامو بے میں قید افراد کے کیسوں کی پہلی مرتبہ سماعت کی ہے۔ سماعت میں شامل ملزمان کی شناخت واضح نہیں کی گئی ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ سماعت دو گھنٹے تک جاری رہی۔ امریکی فوجیوں کا تین رکنی پینل یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا ان قیدیوں کو دشمن جنگجو قرار دے کر بدستور قید میں رکھا جائے یا آزاد کر دیا جائے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں موجود تقریباً چھ سو قیدی بالآخر اسی مرحلے سے گزریں گے۔ یہ ٹریبیونل امریکہ کی عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد تشکیل دیئے گئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ قیدی اپنی حراست کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔ قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے تحت کی جانے والی کوششیں ناکافی ہیں اور ان سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں قید افراد کے خلاف مقدمات کا آغاز تئیس اگست سے ہو گا۔ یمن اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے تین مشتبہ ارکان کے علاوہ آسٹریلیا کے ڈیوڈ ہِکس کے خلاف عدالتی کارروائی سے پہلے علیحدہ سماعت کی جائے گی۔ ان افراد پر دہشت گردی سے متعلق فرد جرم عائد کی گئی ہیں۔ آسٹریلیا نے حالیہ پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ڈیوڈ ہِکس کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کیس کی تیاری کے لیے بہت کم وقت ہو گا۔ اس سے پہلے بش انتظامیہ نے کہا تھا کہ گوانتانامو میں قید افراد ’دشمن جنگجو‘ ہیں اس لیے ان پر امریکی قانون یا بین الاقوامی معاہدوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔ تاہم امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ گوانتانامو کے تمام قیدیوں کو اس بات سے مطلع کر دیا گیا ہے کہ انہیں قانون کا سہارا لینے کی اجازت ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||