BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 July, 2004, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: چھ سو مقدموں پر نظر ثانی
News image
امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ تین افسروں پر مشتمل فوجی ٹرائبیونل گوانتاناموبے میں زیر حراست چھ سو قیدیوں کے مقدموں پر نظر ثانی اگلے ہفتے شروع کر دے گا۔

ملٹری ٹرائبیونل اس بات کا فیصلہ کرئے گا کہ زیر حراست لوگوں میں سے کس کی حراست جائز ہے۔

امریکی حکومت نے زیر حراست لوگوں کے مقدمے پر نظر ثانی کا فیصلہ امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کیا ہے جس میں اس نے قرار دیا ہےکہ گوانتاناموبے میں قید لوگ اپنی حراست کو امریکی عدالتی نظام کے ذریعے چیلنج کر سکتے ہیں۔

پنٹاگون کا کہنا ہے کہ ٹرائبیونل کی نظر ثانی کے بعد کئی زیر حراست لوگوں کے رہا ہونےکا امکان ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گوانتاناموبے میں زیر حراست لوگوں کے میں بارے امریکی حکومت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے ناکافی ہے۔

پینٹاگون نے کہا ہےکہ اس نے تمام زیر حراست لوگوں کو تحریری طور پر ان کے حقوق کے بارے میں بتا دیا ہے اور ان کو یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اپنی حراست کو کیسے چیلنج کر سکتے ہیں۔ جو لوگ پڑھ نہیں سکتے ان کو زبانی طور پر بتا دیا گیا ہے ۔

امریکی نیوی سیکڑیڑی گورڈن انگلیڈ نے کہا کہ 90 فیصد سے زیادہ لوگوں نے مثبت جواب دیا ہے ۔ جبکہ باقی لوگوں نے نوٹس کو توڑ موڑ کر پھینک دیا اور نفی میں جواب دیاہے۔

زیر حراست لوگوں کو فوجی ٹرائبیونل کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے وکیل کی سہولت حاصل نہیں ہو گی اور وہ اپنا مقدمہ ذاتی طور پر پیش کر سکیں گے۔

پینٹاگون نے کہا کہ زیر حراست لوگ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے امریکہ کے خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل نہیں ہو گی۔ البتہ اپنے بارے میں مقدمے کی تفصیلات حاصل کر سکیں گے۔

وکیل جو مارگولیس کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کا فوجی ٹرائبیونل سے زیر حراست لوگوں کے مقدموں پر نظر ثانی کا مقصد غیر قانونی حراست کو مزید طوالت دینا ہے۔

وکیل جو مارگولیس نے کہا کہ فوجی ٹرائبیونل خفیہ معلومات کی بنیاد پر اپنا فیصلہ دے گا اور ان خفیہ معلومات تک زیر حراست لوگوں کی دسترس میں نہیں ہوں گیں جوانصاف کے مروجہ اصولوں کی نفی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد