گوانتانامو: چھ سو مقدموں پر نظر ثانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ تین افسروں پر مشتمل فوجی ٹرائبیونل گوانتاناموبے میں زیر حراست چھ سو قیدیوں کے مقدموں پر نظر ثانی اگلے ہفتے شروع کر دے گا۔ ملٹری ٹرائبیونل اس بات کا فیصلہ کرئے گا کہ زیر حراست لوگوں میں سے کس کی حراست جائز ہے۔ امریکی حکومت نے زیر حراست لوگوں کے مقدمے پر نظر ثانی کا فیصلہ امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کیا ہے جس میں اس نے قرار دیا ہےکہ گوانتاناموبے میں قید لوگ اپنی حراست کو امریکی عدالتی نظام کے ذریعے چیلنج کر سکتے ہیں۔ پنٹاگون کا کہنا ہے کہ ٹرائبیونل کی نظر ثانی کے بعد کئی زیر حراست لوگوں کے رہا ہونےکا امکان ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ گوانتاناموبے میں زیر حراست لوگوں کے میں بارے امریکی حکومت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے ناکافی ہے۔ پینٹاگون نے کہا ہےکہ اس نے تمام زیر حراست لوگوں کو تحریری طور پر ان کے حقوق کے بارے میں بتا دیا ہے اور ان کو یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اپنی حراست کو کیسے چیلنج کر سکتے ہیں۔ جو لوگ پڑھ نہیں سکتے ان کو زبانی طور پر بتا دیا گیا ہے ۔ امریکی نیوی سیکڑیڑی گورڈن انگلیڈ نے کہا کہ 90 فیصد سے زیادہ لوگوں نے مثبت جواب دیا ہے ۔ جبکہ باقی لوگوں نے نوٹس کو توڑ موڑ کر پھینک دیا اور نفی میں جواب دیاہے۔ زیر حراست لوگوں کو فوجی ٹرائبیونل کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے وکیل کی سہولت حاصل نہیں ہو گی اور وہ اپنا مقدمہ ذاتی طور پر پیش کر سکیں گے۔ پینٹاگون نے کہا کہ زیر حراست لوگ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے امریکہ کے خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل نہیں ہو گی۔ البتہ اپنے بارے میں مقدمے کی تفصیلات حاصل کر سکیں گے۔ وکیل جو مارگولیس کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کا فوجی ٹرائبیونل سے زیر حراست لوگوں کے مقدموں پر نظر ثانی کا مقصد غیر قانونی حراست کو مزید طوالت دینا ہے۔ وکیل جو مارگولیس نے کہا کہ فوجی ٹرائبیونل خفیہ معلومات کی بنیاد پر اپنا فیصلہ دے گا اور ان خفیہ معلومات تک زیر حراست لوگوں کی دسترس میں نہیں ہوں گیں جوانصاف کے مروجہ اصولوں کی نفی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||