| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاناموبے: دو سال ایک سوال
ایک بار پھر حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹ واچ نے دو سال تک کسی الزام کے بغیر سینکڑوں لوگوں کو گوانتاناموبے میں قید رکھنے پر امریکہ کی مذمت کی ہے۔ کیوبا کے قریب اس نظربندی کیمپ کو دو سال قبل افغانستان میں القاعدہ کے خلاف کارروائی اور طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے حملے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ اس کیمپ جیل کا قیام گوانتاموبے میں اس لیے لایا گیا تھا کہ کہ یہ ایک ایسا علاقہ تھا جس کے بارے میں امریکہ یہ کہہ سکتا تھا کہ اس پر امریکی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عملاً امریکہ نے یہ مثال قائم کی ہے کہ دنیا میں اگر آپ کے پاس طاقت ہو تو آپ کسی بھی علاقے کو ایسا علاقہ قرار دے سکتے ہیں جس پر دنیا کے کسی بھی علاقے کے قوانین کا اطلاق نہ ہوتا ہو۔ گوانتاناموبے کو امریکہ نے کیوبا سے اس وقت پٹے پر حاصل کیا تھا جب فیڈل کاسترو کیوبا میں بر سرِ اقتدار نہیں آئے تھے۔ اور تب سے اب تک امریکہ کیوبا کو کرائے کے چیک بھیجتا رہتا ہے جنہیں کیوبا یہ کہہ کر کیش نہیں کراتا کہ گوانتاناموبے پر امریکہ کا قبضہ غیر قانونی ہے اور اسی طرح کرائے کی ادائیگی بھی۔
دلچسپ بات یہ ہے امریکہ گوانتاناموبے کو امریکی قوانین سے بالاتر بھی قرار دیتا ہے اور کسی کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ یہاں اس کے مرضی کے بغیر داخل ہو سکے۔ اس اعتبار سے امریکہ نے گوانتاناموبے کے جزیرے کو ایک ایسا علاقہ بنا دیا ہے جس پر امریکی قوانین کا اطلاق بھی نہیں ہوتا اور کسی اور علاقے کے قوانین کے اطلاق کو بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جب کہ جزیرے کا تمام نظم و نسق امریکہ ہی کے پاس ہے۔ منطقی طور پر امریکہ کا موقف انتہائی لایعنی اور غیر منطقی ہے۔ کیونکہ اگر آج یا کسی بھی وقت اگر کوئی ملک یا طاقت گوانتاناموبے پر کوئی قانونی فوجی یا انتظامی کارروائی کرتی ہے تو امریکہ ہی اس کا جواب دے گا اور جوابی کارروائی کرے گا اور اگر کرے گا تو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اس لیے جوابی کارروائی کرے گا کہ یہ علاقہ اس کی عملداری ہے تو عملداری کے اس علاقے پر امریکی قوانین کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟ اس وقت اس کیمپ جیل پر ایسے قوانین کا اطلاق کیا جا رہا جنہیں انسانی اصلاحات میں صرف ہٹ دھرمی اور بربریت ہی کا نام دیا جا سکتا۔ ان بربری قوانین کے تحت افغانستان اور دوسرے کئی ملکوں سے تعلق رکھنے والے چھ سو ساٹھ قیدیوں کو کوئی قانونی سہولت حاصل نہیں۔
قیدیوں چھوٹے چھوٹے سیلوں میں رکھا جاتا ہے اور ہگاتھوں میں کڑیاں اور پاؤں میں زنجیریں ڈال کر اس احاطے میں باہر لایا جاتا ہے جو خاردار تاروں سے گھرا ہوا ہے۔ اس احاطے میں بھی قیدی نگرانوں کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھتے ہیں اور انہیں اپنی مرصی سے ایک قدم بھی اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ امریکہ اس وقت واحد سُپر پاور ہے اور اقوام متحدہ سمیت کوئی ایسی طاقت نہیں جسے وہ خاطر میں لاتا ہو لیکن یہ ’آج‘ ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ’کل‘ کیا ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا بظاہر ایک ناقابلِ امکان ’کل‘ میں امریکہ کی موجودہ قیادت یہ پسند کرے گی کہ اس پر یا امریکی شہریوں پر انہی یا ایسے ہی قوانین کا اطلاق ہو جو وہ گوانتاناموبے میں استعمال کر رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||