’امریکی فوجی ٹربیونل نامنظور‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت کے سب سے اعلیٰ قانونی مشیر اور ملک کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ خلیج گوانتانامو کی جیل میں قید مشتبہ دہشت گردوں کے مقدموں کی سماعت کے لیے امریکہ کے تجویز کردہ فوجی ٹربیونل انصاف کے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق نہیں۔ اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے لندن میں ایک خطاب میں کہا ہے کہ کچھ مقدمات میں بنیادی حقوق سے اجتناب سمجھ میں آ سکتا ہے لیکن مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے افراد کو مجوزہ طریقے سے انصاف نہیں مِل سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس موضوع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ برطانوی وزیر اعظم کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل کا بیان حیران کن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ٹربیونل امریکہ کے ساتھ مزید بات چیت تک معطل کیے جا چکے ہیں۔ خلیج گوانتانامو کی امریکی جیل میں قید چھ سو افراد میں چار برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔ تاہم بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق اٹارنی جنرل کے اس بیان سے امریکی اور برطانوی حکومتوں پر چار برطانوی شہریوں کے معاملے کو لے کر یقیناً دباؤ بڑھے گا۔ برطانیہ اس سے پہلے بھی امریکہ سے مطالبہ کر چکا ہے کہ ان قیدیوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے۔ چار برطانوی شہریوں میں سے دو کا نام ان چھ افراد کی اس فہرست میں ہے جن پر مذکورہ فوجی ٹربیونل میں مقدمہ چلایا جاناہے۔ برطانوی حکومت پہلے بھی امریکہ سے کہہ چکی ہے کہ اس کے شہریوں پر بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے مطابق مقدمہ چلایا جائے یا برطانیہ کے حوالے کر دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||