BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 June, 2004, 08:23 GMT 13:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی فوجی ٹربیونل نامنظور‘
گوانتانامو جیل
برطانوی حکومت کے سب سے اعلیٰ قانونی مشیر اور ملک کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ خلیج گوانتانامو کی جیل میں قید مشتبہ دہشت گردوں کے مقدموں کی سماعت کے لیے امریکہ کے تجویز کردہ فوجی ٹربیونل انصاف کے بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق نہیں۔

اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے لندن میں ایک خطاب میں کہا ہے کہ کچھ مقدمات میں بنیادی حقوق سے اجتناب سمجھ میں آ سکتا ہے لیکن مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے افراد کو مجوزہ طریقے سے انصاف نہیں مِل سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس موضوع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

برطانوی وزیر اعظم کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل کا بیان حیران کن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ٹربیونل امریکہ کے ساتھ مزید بات چیت تک معطل کیے جا چکے ہیں۔

خلیج گوانتانامو کی امریکی جیل میں قید چھ سو افراد میں چار برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔

تاہم بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق اٹارنی جنرل کے اس بیان سے امریکی اور برطانوی حکومتوں پر چار برطانوی شہریوں کے معاملے کو لے کر یقیناً دباؤ بڑھے گا۔

برطانیہ اس سے پہلے بھی امریکہ سے مطالبہ کر چکا ہے کہ ان قیدیوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے۔

چار برطانوی شہریوں میں سے دو کا نام ان چھ افراد کی اس فہرست میں ہے جن پر مذکورہ فوجی ٹربیونل میں مقدمہ چلایا جاناہے۔

برطانوی حکومت پہلے بھی امریکہ سے کہہ چکی ہے کہ اس کے شہریوں پر بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے مطابق مقدمہ چلایا جائے یا برطانیہ کے حوالے کر دیا جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد