’گوانتانامو: جنسی تذلیل کی گئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سویڈن کے شہری ، مہدی غزالی نےالزام لگایا ہے کہ اس کوگوانتانامو بے میں حراست کے دوران شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ آڑھائی سال تک امریکی حراست میں رہنے والے مہدی غزالی کو پچھلے ہفتے رہا کیا گیا ہے۔ پچیس سالہ مہدی غزالی نے جس کو دسمبر 2001 میں پاکستان میں گرفتار کیا تھا، کہاہے کہ تشدد کے طریقوں میں ذہنی اور جسمانی تشدد کے علاوہ اس کو جنسی طور بھی حراساں کیا گیا۔ رہائی کے بعد سویڈن میڈیا کو دیئے گئے پہلے انٹرویو میں مہدی غزالی نے کہا کہ حراست کے دوران اس کو امریکییوں نے مستقل ذہنی اذیت میں مبتلا کیے رکھا۔ اس پر آزمائے گئے تشدد کے طریقوں کےبارے میں اس نے کہا کہ گھنٹوں تک زنجیروں میں جکڑے رکھا ، راتوں کو جگایا گیا اور اس کا باہر کی دنیا سے رابطہ بلکل منقطہ کر دیا گیا۔ اس نے کہا اس کو جنسی طور پر حراساں کیے جانے کے علاوہ انتہائی کم درجہ حرارت میں چودہ چودہ گھنٹے تک رکھا جاتا تھا۔ مہدی غزالی نے کہا کہ رہائی سے چند میہنے پہلے اس کو شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مہدی غزالی کو دسمبر 2001 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا اور جنوری 2002 میں امریکیوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ مہدی غزالی نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے ایسا کچھ کیا ہوتا تو اس کو کبھی بھی نہ چھوڑا جاتا۔ مہدی غزالی نے کہا کہ حراست کے پہلے چھ مہینے تک وہ تفتیش کرنے والوں کے سوالوں کے جوابات دیتا رہا لیکن بعد میں اس نے خاموشی اختیار کر لی جو اس نے دو سال تک اختیار کیے رکھی۔ اطلاعات کے مطابق مہدی غزالی نے رہائی کے بعد سویڈن میں کسی خفیہ مقام پر پناہ لے لی ہے کیونکہ یورپی نسل پرستوں، نیو نازی، نے اس کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||