گوانتانامو: قیدیوں کی سنی جائے گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بہت جلد فوجی ٹرائبیونل خلیج گوانتانامو کے قیدیوں کی حراست پر نظر ثانی کے مقدمات کی سماعت شروع کر دیں گے۔ امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ بش انتظامیہ کے اعتراضات کے باوجود ایک فیصلہ میں گوانتانامو کے قیدیوں کے اپنی حراست کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ بش انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قیدی امریکی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ خیلج گوانتانامو کے تمام قیدیوں کے لیے بش انتظامیہ نے غیر قانونی دشمن جنگجوں کی اصطلاح وضح کی ہے اور ان کو کیوبا کی سرزمین پر رکھا ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع نے ان قیدیوں کو امریکی عدالتوں میں اپنی گرفتاریوں اور حراست کے خلاف مقدمات دائر کرنے کے حق سے محروم رکھا تھا۔ امریکی سپریم کورٹ کے گزشتہ ماہ کے فیصلے کے بعد گوانتانامو کے چھ سو سے زیادہ قیدی اب یہ بات جان سکیں گے کہ انھیں کن الزامات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ تین فوجی حکام پر مشتمل یہ ٹرائیبونل اب ان کے مقدمات کی نظرثانی شروع کرنے والے ہیں۔ قیدی ان ٹرائبیونلز کے سامنے اپنے حق میں گواہیاں اور ثبوت پیش کر سکیں گے تاہم انہیں عام وکلاء کرنے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔ ان نظرثانی ٹرائبیونلز کے سامنے پیشی کے دوران قیدیوں کو فوجی وکلاء مہیا کیے جائیں گے۔ امریکی وزراتِ دفاع پینٹاگن کا کہنا ہے کہ ان سماعتوں کو باقاعدہ مقدمات نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم شہری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بغیر وکلاء کے یہ مقدمات ایک ڈرامہ ہیں۔ تاہم اگر یہ ثابت ہو گیا کہ یہ قیدی غیر قانونی دشمن جنگجو نہیں رہے تو انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||