گوانتانامو: رہائی کیلئے درخواستیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو میں بند نو قیدیوں نے اپنی حراست کے خلاف ایک امریکی عدالت میں رٹ درخواستیں دائر کی ہیں۔ یہ رٹ درخواستیں امریکی سپریم کورٹ کے گزشتہ ہفتے کے اس فیصلے کے بعد دائر کی گئی ہیں اس میں کہا گیا تھا کہ گوانتانامو بے میں موجود قیدی اپنی حراست کے خلاف امریکی عدالتوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ رٹ درخواستیں دائر کرنے والے ادارے دی سنٹر فار کنسٹی ٹیوشنل رائٹس کا کہنا ہے کہ یہ درخواستیں گوانتانامو میں بند چھ سو قیدیوں میں سے نو افراد نے دائر کی ہیں۔ ان رٹ درخواستوں میں حراست کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور ان افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جن قیدیوں کی طرف سے یہ رٹ درخواستیں دائر کی گئی ہیں ان میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے معظم بیگ اور فیروز عباسی کے علاوہ تین فرانسیسی، ایک ترک، اردن اور عراق سے تعلق رکھنے والے دو عرب اور ایک کینیڈا کا شہری شامل ہیں۔
پینٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بش انتظامیہ کے لیے ایک دھچکہ ثابت ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گوانتانامو کے چھ سو قیدیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امریکی عدالتوں میں اپنی حراست کے خلاف درخواست دے سکیں۔ فیصلے میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ چلنج دائر کرنے والے قیدی مجرم یا بے گناہ ہوسکتے ہیں تاہم اس سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ اب امریکی عدالتوں میں ان قیدیوں کی رہائی کے لیے سینکڑوں درخواستیں دائر کردی جائیں گی۔ پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق امریکہ پہلے ہی تقریباً چھ سو قیدیوں کی سالانہ جائزہ رپورٹ کی تیاری میں ہے جس میں تین فوجی افسروں کا ایک پینل ہر قیدی کے کیس کا جائزہ لے گا۔ اس جائزے کے ذریعے یہ جانا جائے گا کہ آیا یہ افراد سکیورٹی کے لیے اب بھی خطرہ ہیں یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||