گوانتانامو، کئی کی رہائی کا امکان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پینٹاگون نے کہا ہے کہ قانونی چیلنجز سے بچنے کے لیے امکان ہے کہ امریکہ گوانتانامو سے چند قیدیوں کو رہا کردے گا۔ یہ بیان امریکی سپریم کورٹ کے گزشتہ ہفتے کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے کہ گوانتانامو بے میں موجود قیدی اپنی حراست کے خلاف امریکی عدالتوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان اعلٰی لیری ڈی ریتا نے کہا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ تو نہیں کیا گیا کہ عدالت کے اس فیصلے پر کس طرح کا رد عمل ظاہر کیا جائے تاہم ’ہر ایک کی خواہش ہے کہ جس شخص کو بھی قید میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اسے رہائی ملنی چاہیے‘۔
پینٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بش انتظامیہ کے لیے ایک دھچکہ ثابت ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گوانتانامو کے چھ سو قیدیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امریکی عدالتوں میں اپنی حراست کے خلاف درخواست دے سکیں۔ فیصلے میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ چلنج دائر کرنے والے قیدی مجرم یا بے گناہ ہوسکتے ہیں تاہم اس سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ اب امریکی عدالتوں میں ان قیدیوں کی رہائی کے لیے سینکڑوں درخواستیں دائر کردی جائیں گی۔ پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق امریکہ پہلے ہی تقریباً چھ سو قیدیوں کی سالانہ جائزہ رپورٹ کی تیاری میں ہے جس میں تین فوجی افسروں کا ایک پینل ہر قیدی کے کیس کا جائزہ لے گا۔ اس جائزے کے ذریعے یہ جانا جائے گا کہ آیا یہ افراد سکیورٹی کے لیے اب بھی خطرہ ہیں یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||