گوانتانامو: برطانوی قیدیوں کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو میں گزشتہ تین سال سے محض شک کی بنا پر اسیر آخری چار برطانوی شہریوں کو بھی رہا کر دیا گیا ہے اور منگل کو ایک برطانوی طیارہ انہیں لے کر برطانیہ پہنچا۔ برطانیہ پہنچتے ہی انہیں پھر گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں لندن کے ایک ایسے پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔ جہاں حفاظت کے انتہائی کڑے انتظامات کیے گئے ہیں۔ رہائی پا کر برطانیہ آنے والے ان لوگوں میں ایک کا تعلق برمنگھم سے ہے جب کہ تین لندن کے رہنے والے ہیں اور امریکہ کو ان پر شبہ تھا کہ ان کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ برطانوی شاہی فضائیہ کا سی 17 طیارہ ان چاروں شہریوں، معظم بیگ، مارٹن موبنگا، رچرڈ بلمار اور فیروز عباسی کو لے کر لندن میں فضائیہ کے اڈے پر اترا تو انہیں پولیس نے گرفتار کر لیا اور انتہائی حفاظتی انتظامات میں پیڈنگٹن گرین پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا جا رہا ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیق کرنا چاہتی ہے کہ ان چاروں برطانوی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کے اصل اسباب کیا تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ان چاروں برطانوی شہریوں کو برطانوی حکومت کی درخواست پر رہا کیا گیا ہے اور برطانوی حکومت نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ برطانوی اسیر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے۔ بتایا گیا ہے چاروں اسیروں کی برطانیہ پہنچنے پر پولیس نے فلم بنائی بھی بنائی اور اس کارروائی میں پولیس کے ساتھ دو غیر جانبدار مبصر بھی تھے جن میں ایک مسلمان تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||