گوانتانامو: عدالتی کارروائی شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا کے جزیرے گوانتانامو پر امریکی بحریہ کے اڈے پر افغانستان سے گرفتار ہونے والے چار افراد کے خلاف فوجی عدالت میں کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔ کارروائی کا سامنا کرنے والے ایک آسٹریلوی، دو یمنی اور دو سوڈانی دو سال سے گوانتانامو میں قید ہیں۔ ان چاروں کے خلاف جنگی جرائم اور امریکہ کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا الزام ہے۔ امریکی صدر جارج بُش کہہ چکے ہیں کے گوانتانامو میں قید پانچ سو نوّے افراد دشمن جنگجو ہیں اور ان کے خلاف فوجی کمیشن کے سامنے مقدمہ چلایا جائے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوجی عدالتوں میں سماعت کو غیر قانونی کارروائی قرار دیا ہے۔ اس ہفتے شروع ہونے والی کارروائی امریکیوں کی طرف سے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ خیال ہے کہ چاروں افراد جن کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے سن دو ہزار ایک اور دو کے دوران افغانستان سے گرفتار کیے گئے تھے۔ فوجی کمیشن پانچ سینیئر فوجی افسران پر مشتمل ہوگا۔ وکیل صفائی اور استغاثہ بھی فوجی افسران ہی ہوں گے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی عدالتوں کے پاس دشمن قیدیوں کے مقدموں کی سماعت کا اختیار نہیں ہے لیکن وکلاء کی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ خلیج گوانتانامو کے قیدیوں کو امریکی آئین کے تحت ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||