BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 August, 2004, 23:14 GMT 04:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: عدالت میں سماعت
گوانتانامو اپیل عدالت
عدالتی کارروائی کے کچھ حصے میں صحافیوں کو موجود رہنے کی اجازت تھی
گوانتانامو میں قیدیوں کے معاملات پر فوجی ٹرائبیونل میں نظر ثانی کی جو کارروائی شروع کی گئی ہے اس میں جمعرات کو پہلی بار اخبار نویسوں کو بھی جانے کی اجازت دی گئی۔

اس نظر ثانی کے دوران یہ دیکھا جارہا ہے کہ آیا ملزم کو فوجی جنگجو قرار دینا چاہیے یا نہیں۔

سماعت کے دوران بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ’گوانتانامو بے میں اس چھوٹے سے کمرے میں جو کھچاکھچ بھرا تھا پہلی بار داخل ہونے کا مجھے بھی موقع ملا۔ سماعت میں قیدی کو موقع دیا جارہا ہے کہ وہ خود اپنی رہائی کے لیےدلائل پیش کرے۔

ایک دبلے پتلے قیدی کوجس کی بڑی سی گھنی داڑھی تھی پیش کیا گیا۔ اس کے ہتھکڑیاں لگی تھیں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کے فرش میں لگے کنڈوں سے باندھ دیا گیا تھا۔بدن پر گونتا نامو کے عام قیدیوں کی نارنجی رنگ کی وردی تھی۔
میں اسے دیکھ کے صرف یہ اندازہ لگا سکا کہ اکتیس بتیس سال اس کی عمر ہوگی اور وہ افغان معلوم ہوتا تھا۔

ٹرائبیونل کے تین فوجی اور باقی دوسرے افسروں کے سامنے اس کے خلاف الزامات کا خلاصہ پڑھ کے سنایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ طالبان کا رکن ہے، فوجی ہے، جس کو ہتھیار دیئے گئے تھے اور جو کندوز میں شمالی اتحاد سے لڑنے کے لیے گیا تھا۔ اسے طالبان کے ایک لیڈر کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔

پھر قیدی کا ایک تفصیلی بیان آیا۔ اس نے ایک مترجم کی مدد سے بتایا کہ میں کندوز میں امریکیوں سے لڑنے کے لۓ نہیں گیا تھا بلکہ روزی کمانے گیا تھا اور میں نے اپنی مرضی سے اپنے کو حوالے کیا تھا۔

یہ کارروائیایک گھنٹے سے کم میں ختم ہوگئ۔ لیکن ٹرائبیونل کی کارروائی کاایک حصہ خفیہ رکھا گیا ہےجس میں نہ تو قیدی کو بلایا جاۓ گا نہ اخبار والوں کو۔ اور اسی دوران میں یہ ٹرائبیونل قیدی کے بارے میں فیصلہ دے گا۔

نظر ثانی کے یہ ٹرائبیونل جون کے مہینے میں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد حکومت نے قائم کئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ چھ سو کے قریب قیدیوں کو یہ حق ہے کہ امریکی نظام انصاف کے اندر اپنی حراست کو چیلنج کریں ۔

ٹرائبیونل نے جولائی کے آخری ہفتے میں سماعت شروع کی تھی۔ لیکن آٹھ میں سے پانچ قیدیوں نے کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔

گوانتا نامو کے سو سے زیادہ قیدیوں کی پیروی قطر کے ایک سابق وزیر انصاف ڈاکٹر نجیب النعیمی کررہے ہیں لیکن ان کو اپنے مؤکلوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

ڈاکٹر نعیمی نے بی بی سی کو بتایا کہ میں اپنے مؤکلوں کو یہ مشورہ دونگا کہ سریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور وہ عام فیڈرل عدالت کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں اس لئے وہ ٹرایبیونل کے سامنے نہ جائیں۔ اب اس طرح کے ٹرائبیونل کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی حیثیت بالکل بدل گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد