BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 October, 2003, 01:06 GMT 05:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو کی نقل
صرف گارڈز اور قیدیوں کو کیمپ میں جانے کی اجازت ہے
صرف گارڈز اور قیدیوں کو کیمپ میں جانے کی اجازت ہے

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں خلیج گوانتانامو میں قائم بدنامِ زمانہ امریکی قید خانے کیمپ ایکسرے کی مذمت کرنے کے لیے اس کی ایک نقل بنائی گئی ہے جہاں بالکل وہی ماحول پیدا کیا گیا ہے جو کہ خیلچ گوانتانامو میں پایا جاتا ہے۔

کیمپ کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے ایک نمائندے نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

کیمپ کے دروازے پر متعین ایک مسلح گارڈ نے مجھ سے میری شناخت طلب کی اور ایک لمحے کو مجھے احساس ہوا کہ میں غلطی سے کسی فوجی کیمپ میں آگیا ہوں۔

جب میں نے کہا کہ اگر میں کہوں کہ میرے پاس میری کوئی شناحت نہیں تو فوجی نے جواب دیا میں تمہیں گولی مار دوں گا۔ فوجی کے اس جواب پر میں ذرا دیر کے لیے گھبرا سا گیا۔

یہ کیمپ آبادی کے درمیان ایک کھلی جگہ پر قائم کیا گیا ہے۔ مختلف تنظیموں کے لوگ اس کیمپ میں جا کر خیلج گوانتانامو میں پائے جانے والے سخت حالات کی طرف دنیا کی توجہ دلانا چاہتے ہیں۔

میں اپنی سادگی میں یہ توقع کر رہا تھا کہ کیمپ کے گیٹ پر کوئی گائیڈ میرا استقبال کرے گا اور مجھے کیمپ کے محتلف حصوں کا دورہ کرانے لے جائے گا۔ اس کیمپ کا خیال جئے ریڈ مین نامی ایک آرٹسٹ کا ہے۔

خلیج گوانتانامو کے قید خانے کی طرح یہاں بھی استقبال کرنے والے کوئی نہیں تھا اور میں نے اپنے آپ کو خار دار تاروں کے ایک احاطے کے سامنے کھڑا پایا۔

تیس سالہ رکی کاروتھرس نے کہا کہ یہ بہت موثر طریقہ ہے اور یہ بہت ضروری بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے لوگوں کو یہ یاد دلانا ضروری تھا کہ خیلج گوانتانامو میں انکے بھی ہم وطن اسی حالت میں قید ہیں اور انھیں کوئی قانونی مدد میسر نہیں ہے۔

علاقے میں رہنے والی ایک عورت نے کہا کہ میرے لیے یہ بہت چونکا دینے والا تجربہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہادرانہ قدم ہے۔ لیکن تم اس کا تصور نہیں کر سکتے کہ اس نقلی قید خانے میں رضاکارنہ طور پر قیدی کا روپ دھارنے والوں کو کن حالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کجا یہ کہ ہم ان حالات کا تصور کریں جو خلیج گوانتانامو میں قیدیوں کو درپیش ہیں۔

اس اثنا میں قید خانے کے گیٹ پر سرگرمی دکھائی دی اور ایک گاڑی میں ایک قیدی کو وہاں لایا گیا۔

ہم خاموشی سے اس منظر کو دیکھتے رہے کہ ایک قیدی کو جس کے سر پر غلاف چڑھا ہوا تھا اور اسے جھک کر چلنے پر مجبور کیا جا رہا تھا اس گاڑی سے اتارا گیا۔

باوجود اس سختی کے یہ شخص ایک رضاکار تھا اور کیمپ میں آزادانہ طور پر گھومنے کا مـجاز تھا۔

ایک گارڈ سے بات کر کے پتا چلا کہ وہ بھی قیدی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کوئی بھی گارڈ نہیں بننا چاہتا اس لیے مجھے گارڈ بننا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ وہ قیدی بن کر دیکھنا چاہتی ہے کہ قیدیوں پر کیا گزرتی ہے۔

تاہم سب لوگ اس کیمپ کو تعریفی نگاہوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں اور کچھ اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد