BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 September, 2004, 19:49 GMT 00:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو سے34 پاکستانی رہا

گوانتاناموبے
گوانتاناموبے کا نام نام نہاد حراستی کیمپ غیر انسانی حالت کے حامل قید خانوں کی بد ترین مثال تصور کیا جاتا ہے
کیوبا میں قائم امریکی حراستی کیمپ گوانتانامو بے میں زیر حراست مزید پینتیس قیدیوں کو رہا کرکے پاکستان پہنچا دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ میں قائم’کرائسس مئنیجمینٹ سینٹر‘ کے سربراہ برگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ سنیچر کے روز خصوصی پرواز کے ذریعے پینتیس قیدیوں کو اسلام آباد لایا گیا اور پاکستان کے حوالے کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ رہا ہوکر آنے والوں میں ایک افغان اور چونتیس پاکستانی ہیں۔ پاکستانیوں میں سترہ کا تعلق صوبہ پنجاب، سات سندھ، آٹھ صوبہ سرحد جب کہ ایک ایک بلوچستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے رہائشی شامل ہیں۔

بریگیڈیئر چیمہ کے مطابق گوانتا نامو بے سے لائے گئے پینتیس قیدیوں سے پاکستانی سیکورٹی حکام تفصیلی پوچھ گچھ کریں گے اور توقع ہے کہ انہیں دو سے تین ہفتوں کے دوران رہا کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ رواں سال مارچ کے آخر میں چھبیس قیدی گوانتا نامو بے سے رہا کیے گئے تھے۔ جن میں تیئیس افغان اور تین پاکستانی تھے۔

سنیچر کو پاکستان پہنچنے والے قیدیوں میں سے بیشتر افغانستان اور پاکستان کے صوبہ سرحد سے گرفتار کیے گئے تھے۔

گرفتار ہونے والے طالبان کے حامی سمجہے جا رہے تھے تاہم امریکی حکام نے ان سے تفصیلی تحقیقات کرنے کے بعد رہا کیا ہے۔

پاکستانی حکام قیدیوں کی رہائی کو اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بیک وقت اتنی تعداد میں پاکستانی قیدیوں کی رہائی ان کے مستقل طور پر امریکی حکام سے رابطے کا نتیجہ ہے۔

بریگیڈیئر چیمہ کے مطابق اب باقی گوانتانا مو بے میں قید پاکتسانیوں کی تعداد نصف درجن کے لگ بھگ رہ گئی ہے اور امید ہے کہ انہیں بھی فوری رہا کردیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد